ایلون مسک کا اے آئی ٹول ’گروک‘ ایران پر حملوں میں استعمال ہوا: امریکی حکومت
ایلون مسک کا اے آئی ٹول ’گروک‘ ایران پر حملوں میں استعمال ہوا: امریکی حکومت
بدھ 17 جون 2026 13:12
پینٹاگون کے اے آئی چیف کیمرون سٹینلے نے حلفاً کہا کہ گروک پہلے ہی پروجیکٹ میون میں استعمال ہو رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی حکومت نے ایک قانونی بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت کا ٹول ’گروک‘ ایران پر حملوں میں استعمال ہوا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو منگل کو دستیاب ہونے والی قانونی بریفنگ کے مطابق ارب پتی کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہونے والے گیس ٹربائنز کا دفاع کیا گیا ہے، جو ایک ماحولیاتی مقدمے کا نشانہ ہیں۔
اس بریفنگ میں امریکی محکمہ انصاف نے دلیل دی کہ یہ مقدمہ ’امریکی قومی، اقتصادی اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کی جدت کے لیے بجلی کی فراہمی بند کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو محکمہ جنگ کی فوجی کارروائیوں کی مدد کرتی ہے۔‘
اس دلیل کے حق میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے پینٹاگون کے اے آئی چیف کیمرون سٹینلے کی گواہی پیش کی جس میں انہوں نے حلفاً کہا کہ گروک پہلے ہی پروجیکٹ میون میں استعمال ہو رہا ہے، جو امریکی فوج کا اے آئی سے مدد یافتہ ٹارگٹنگ پروگرام ہے اور جسے ابتدا میں اینتھروپک کے ’کلاؤڈ‘ ماڈل سے چلایا گیا تھا۔
سٹینلے کے بیان میں کہا گیا کہ پروجیکٹ کے ’میون سمارٹ سسٹمز‘ نے ’امریکی افواج کو آپریشن ایپک فیوری کے دوران 96 گھنٹوں میں دو ہزار مختلف اہداف پر دو ہزار ہتھیار استعمال کرنے کے قابل بنایا۔‘
سٹینلے نے مسک کی ٹیکنالوجی کی تعریف کی اور کہا کہ ’گروک گَو ماڈل نے آپریشنل کارکردگی کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔‘
این اے اے سی پی، جو سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیم ہے، ’ایکس اے آئی‘ پر مقدمہ کر رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ اس نے کلین ایئر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درجنوں ٹربائنز بغیر اجازت کے چلائے۔
حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹربائنز زیادہ تر سیاہ فام محلوں کو آلودہ کرتے ہیں، لیکن ’ایکس اے آئی‘ کا کہنا ہے کہ یہ ٹربائنز عارضی اور موبائل ہیں، اس لیے ان پر ضابطے لاگو نہیں ہوتے۔
فروری کے آخر میں، حکومت نے اینتھروپک کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے کیونکہ اس نے اپنی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خودکار حملوں یا امریکیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
مسک نے فروری میں ’ایکس اے آئی‘ کو اپنی خلائی تحقیقاتی کمپنی سپیس ایکس میں ضم کر کیا (فوٹو: روئٹرز)
اس کے بعد پینٹاگون نے گوگل، اوپن اے آئی اور’ایکس اے آئی‘ جیسے اینتھروپک کے حریفوں کی طرف رجوع کیا تاکہ اے آئی کے حصول کو جاری رکھا جا سکے۔
گوگل میں 600 سے زیادہ ملازمین نے مطالبہ کیا کہ کمپنی فوج کو خفیہ آپریشنز کے لیے اے آئی فراہم نہ کرے۔ دیگر نے اے آئی کے خطرات پر وسیع خدشات ظاہر کیے ہیں۔
امریکی فوج کی اے آئی کی طرف منتقلی وقت لے رہی ہے، اور مارچ میں حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ ایران کی جنگ کے لیے اب بھی ’کلاؤڈ‘ استعمال ہو رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی مسک نے فروری میں ’ایکس اے آئی‘ کو اپنی خلائی تحقیقاتی کمپنی سپیس ایکس میں ضم کر دیا، جس نے 12 جون کو تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او کی۔