رپورٹ کے مطابق اگرچہ گذشتہ ماہ ایپل نے میک اور آئی پیڈ کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، لیکن آئی فون کی موجودہ لائن اپ کو اس سے محفوظ رکھا گیا، تاہم اب صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
مارک گرمن کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر میموری چپس کی قلت ہے، جس نے پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی فون 18 پرو میں متوقع ویری ایبل اپرچر کیمرہ سسٹم جیسے مہنگے ہارڈویئر بھی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپل کے فلیگ شپ آئی فونز کی قیمتوں میں گذشتہ کئی برسوں سے نسبتاً معمولی اضافہ ہوا ہے، حالانکہ ان میں زیادہ طاقتور پروسیسرز، بہتر کیمرے اور جدید فیچرز شامل کیے جاتے رہے ہیں۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ آئی فون 18 پرو کی قیمت میں 100 سے 200 ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ متوقع فولڈ ایبل آئی فون الٹرا کی ابتدائی قیمت 2 ہزار ڈالر یا اس سے بھی زیادہ رکھی جا سکتی ہے۔
البتہ یہ ابھی واضح نہیں کہ ایپل اپنی سٹینڈرڈ آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرے گا یا نہیں۔
بلومبرگ کے تجزیہ نگار اور ایپل پراڈکٹس کی خبریں دینے والے مارک گرمین کے مطابق رواں سال آئی فون 18 پرو کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایپل کو صرف بڑھتی ہوئی لاگت ہی نہیں بلکہ سپلائی چین کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث کمپنی کے لیے نئے آئی فونز اور میکس کی طلب پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایپل نے موجودہ سہ ماہی کے لیے آمدنی میں 9 سے 11 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جو وال سٹریٹ کے تقریباً 12 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔ اسی اعلان کے بعد کمپنی کے حصص میں تقریباً 10 فیصد کمی دیکھی گئی، جس سے ایپل کی مارکیٹ ویلیو میں لگ بھگ 500 ارب ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو ٹِم کک نے اپنی آخری آمدنی کانفرنس کال میں کہا کہ سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹیں انتہائی سنگین ہیں اور کمپنی کے پاس ان سے نمٹنے کے لیے بہت محدود آپشنز موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید چِپ سازی کی صلاحیت اور میموری چپس بڑی مقدار میں خرید رہی ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے نہ صرف چپس مہنگی ہو رہی ہیں بلکہ سمارٹ فون اور پرسنل کمپیوٹر بنانے والی کمپنیوں کے لیے ضروری پرزوں کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
روئٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں نے ایپل کے سروسز بزنس کی سست رفتار نمو پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ٹِم کک نے بتایا کہ ایپل نے کچھ عرصے تک اپنے ذخیرہ کیے گئے پرزوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی لاگت کا اثر کم رکھا، لیکن اب وہ ذخیرہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ پروسیسرز کی کمی کے باعث کمپنی آئی فون اور میک کی مضبوط طلب پوری نہیں کر پا رہی۔
روئٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں کو ایپل کے سروسز بزنس کی سست رفتار نمو پر بھی تشویش ہے، کیونکہ اگر آئی فون کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور فروخت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر ایپ سٹور، ایپل میوزک، ایپل ٹی وی اور دیگر سروسز کی آمدنی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں متعدد بروکریج اداروں نے ایپل کے شیئر کی ہدفی قیمت میں کمی کر دی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سپلائی چین کا بحران اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت آنے والے مہینوں میں ایپل کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔