Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل کے کیمروں سے لیس ایئرپوڈز رواں سال ہی متعارف کرائے جانے کا امکان

نے جون میں بھی رپورٹ کیا تھا کہ کیمرہ سے لیس ایئرپوڈز ایپل کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی پہننے کے قابل ڈیوائس ہوں گے۔ (فوٹو: سی نیٹ ڈاٹ کام)
ایپل کے ایئرپوڈز میں جلد ہی ایک نیا فیچر شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے ’سری‘ صارف کے اردگرد کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی، اور یہ فیچر توقع سے پہلے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، ایپل رواں سال کے اختتام سے پہلے کیمروں سے لیس ایئرپوڈز متعارف کرا سکتا ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ ڈیوائس 2027 میں لانچ ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اندازہ  آئی او ایس 27  کے بیٹا ورژن میں موجود کوڈ کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، جس میں B790  نامی ایک نئی ڈیوائس کا حوالہ ملا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ڈیوائس B798 کوڈ نام والے ایک اور کیمرہ ایئرپوڈز کا ابتدائی یا متبادل ورژن ہے، تاہم B790 کی تیاری زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔
چونکہ اب اگست کا مہینہ ہے، اس لیے امکان ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران یہ نئے ایئرپوڈز متعارف کرا دیے جائیں۔
ایپل کے ترجمان نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
بلومبرگ نے جون میں بھی رپورٹ کیا تھا کہ کیمرے سے لیس ایئرپوڈز ایپل کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی پہننے کے قابل ڈیوائس ہوں گے۔
ان ایئرپوڈز میں موجود کیمرے تصاویر یا ویڈیوز بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے بلکہ بصری سینسرز کے طور پر کام کریں گے، جو صارف کے اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کرکے ’سری‘ کو اضافی معلومات فراہم کریں گے تاکہ وہ زیادہ درست اور سیاق و سباق کے مطابق جواب دے سکے۔

اب بھی کئی سوالات باقی

اس نئی ڈیوائس کے حوالے سے ابھی کئی اہم سوالات موجود ہیں۔
ایئرپوڈز اپنی ہلکی پھلکی اور چھوٹی ساخت کی وجہ سے مقبول ہیں، تاہم ان میں کیمرے شامل کرنے سے ان کا حجم بڑھ سکتا ہے۔ اگر یہ زیادہ بڑے ہو گئے تو کیا دوڑنے یا ورزش کے دوران کانوں میں مضبوطی سے اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ کیمرے عملی طور پر کیسے کام کریں گے۔ کیا صارف کو اپنا سر کسی خاص سمت میں کرنا ہوگا تاکہ ’سری‘ مطلوبہ منظر دیکھ سکے، یا ایپل ’وائیڈ اینگل‘ یا’پینورامک‘ کیمرے استعمال کرے گا جو سر کی پوزیشن سے قطع نظر اردگرد کے ماحول کو پہچان سکیں؟
ماہرین کے مطابق اگر پینورامک کیمرے استعمال کیے گئے تو صارف کا تجربہ زیادہ آسان اور قدرتی ہوگا، جبکہ مخصوص سمت میں سر گھمانے کی شرط اس فیچر کو غیر آرام دہ بنا سکتی ہے۔
اگر کیمرے پینورامک نہ ہوئے تو ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صارف اپنے آئی فون یا کسی دوسری سکرین والی ڈیوائس پر دیکھ سکے گا کہ ایئرپوڈز کیا دیکھ رہے ہیں؟ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے اس فیچر کے لیے سکرین والی معاون ڈیوائس کی ضرورت پڑے، کیونکہ اس کے بغیر صارف کے لیے یہ جاننا مشکل ہوگا کہ کیمرہ کس منظر کا تجزیہ کر رہا ہے۔

رازداری بھی ایک بڑا سوال

رازداری کے حوالے سے بھی ایپل کو متعدد خدشات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بلٹ اِن کیمروں والی پہننے کے قابل ڈیوائسز، جیسے میٹا کے سمارٹ چشمے، پہلے ہی اس تنقید کی زد میں آ چکے ہیں کہ ان کے ذریعے لوگوں کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی اجازت یا علم کے بغیر بنائی جا سکتی ہیں۔
اگرچہ کیمرہ ایئرپوڈز سمارٹ چشموں سے مختلف ہوں گے، لیکن چونکہ یہ بھی دن بھر استعمال ہونے والی ڈیوائس ہوگی، اس لیے ممکن ہے کہ انہیں بھی اسی نوعیت کے رازداری کے خدشات کا سامنا کرنا پڑے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایپل ان خدشات کا کس طرح ازالہ کرے گا۔

قیمت کیا ہوگی؟

ان ایئرپوڈز کی قیمت بھی ابھی واضح نہیں۔
فی الحال ایئرپوڈز 4کی ابتدائی قیمت 129 ڈالر ہے، جبکہ ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں فروخت کیے جاتے ہیں۔
اگر کیمرے شامل کرنے سے ڈیزائن اور ہارڈویئر میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں تو ممکن ہے کہ نئے کیمرہ ایئرپوڈز کی قیمت ایئرپوڈز میکس جتنی یا اس سے بھی زیادہ ہو۔

شیئر: