Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس سے جاری ہونے بیان بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ یادداشت پر امریکی اور ایرانی صدور کے الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں۔
’میں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ دونوں ممالک کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں اور ثالث کے طور پر میں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکومتوں کی جانب سے دستخط سے دونوں ممالک کا یہ عزم ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔
بیان کے مطابق ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذالعمل ہو گی اور پہلے اقدام کے طور پر ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکہ بھی فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔‘
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد دیتے اور خراج تحسین پیش کرے ہوئے کہا کہ ان کی مخلصانہ کوششوں اور تنازع کے پرامن حل کی ترجیح نے ایک ایسے مسئلے کو کرنے میں مدد دی ہے جس کے نتائج پورے خطے بلکہ باہر کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے تھے۔
شہباز شریف کے مطابق ’میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں جن میں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور سکندر مومنی شامل ہیں۔ ان کی استقامت اور تعمیری مذاکرات نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے امن کے لیے کردار ادا کرنے پر ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ اور صدر مسعوس پزشکیان کی دور اندیشی، تدبر اور دانشمندی کو بھی سراہا اور گہرے احترام کا اظہار کیا۔
انہوں نے معاہدے تک پہچنے میں مدد دینے پر سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی کلیدی قرار دیا اور خدمات کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی خصوصی ذکر کرنا چاہیں گے جن کی انتھک کوششوں اور بے لوث دلچسپی نے خطے کے استحکام اور امن کے مقصد کی اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
واضح ایران اور امریکہ کے درمیان اتوار کو معاہدے طے پایا تھا جس پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ پاکستان کی جانب سے اس سے قبل الیکٹرانک دستخط کا انتظام کیا گیا تھا۔
چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخط کی باضابطہ تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے جنگ بندی اور اب معاہدے تک پہنچنے کے کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور معاہدہ طے پانے کا اعلان بھی شہباز شریف نے 14 جون کو کیا تھا۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے اثرات پورے خطے کے علاوہ دنیا بھر پر اس طرح سے پڑے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور اس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا جبکہ خلیجی ممالک بھی حملوں کا نشانہ بنے۔
جنگ کے ساتھ ہی ثالثی کے لیے متحرک ہونے والا پاکستان پانچ ہفتے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا، جس میں بعدازاں توسیع ہوئی۔
مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوا تاہم دوسرا نہ ہو پانے کے باوجود بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھی گئیں اور معاملہ امن معاہدے تک پہنچ گیا۔

شیئر: