ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی یادداشت کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال میں بہتری کا براہِ راست اثر عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک نیچے آ گئی ہیں۔
اس حالیہ پیش رفت کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے صارفین اب حکومت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ماضی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا گیا، تو اب اسی تناسب سے ان میں بڑی کمی بھی ہونی چاہیے۔
لیکن یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت واقعی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی بڑی کمی کرے گی یا عوام کو محض ایک معمولی سا ریلیف دینے پر ہی اِکتفا کیا جائے گا؟
مزید پڑھیں
وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ’وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی نمایاں کمی کا پورا ریلیف بلاتاخیر عوام کو منتقل کیا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے جو عالمی صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس متوقع ردوبدل کا باضابطہ اعلان جمعے کو کرنے جا رہی ہے۔
زیرِنظر سطور میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اپریل کے آغاز میں عالمی منڈی کے دباؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے سے زائد کا یکمشت اضافہ کر کے اسے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 458 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا تھا۔

اس طرح بحران کے عروج پر پیٹرول کی قیمت قریباً 192 روپے فی لیٹر تک مہنگی ہو چکی تھیں۔ یاد رہے کہ اس بحران کے آغاز پر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 266 روپے تھی، جبکہ آج کی تاریخ میں اس کی موجودہ قیمت 373 روپے فی لیٹر ہے۔
اگر عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو 28 فروری کو کشیدگی کے آغاز پر عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 72 سے 73 ڈالر فی بیرل تھی، جو بعد میں بحران کے دوران بڑھتے بڑھتے 120 ڈالر تک بھی گئی، لیکن اب اس میں دوبارہ بڑی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے اور یہ کم ہو کر 78 ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔
چناںچہ اگر تکنیکی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر صرف ایک سادہ حساب لگایا جائے، تو اس وقت 78 ڈالر فی بیرل کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت قریباً 284 روپے فی لیٹر کے آس پاس بنتی ہے اور ڈیزل کی قیمت 292 روپے کے لگ بھگ ہونی چاہیے۔
ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے کہ کیا حکومت واقعی عوام کو یہ بڑا ریلیف فراہم کر سکتی ہے یا نہیں، پاکستان کے معروف توانائی ماہرین سے خصوصی گفتگو کی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم اوگرا کے سابق ممبر گیس اس حوالے سے زیادہ پُرامید دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قیمتوں میں بڑی کمی تو ہونی چاہیے، لیکن کچھ طاقت ور حلقوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے شاید اس نوعیت کی کمی نہ کی جائے۔‘
انہوں نے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی کہ ’حکومت نے اگر یکمشت اس قدر بڑی کمی کر دی تو آئل کمپنیوں کے پاس موجود سٹاکس کی قدر گر جائے گی، اس لیے فیصلے کے وقت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔‘
اُن سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اس وقت حکومت کو کتنی کمی کرنی چاہیے اور کیا اب وہی فارمولا نہیں اپنایا جانا چاہیے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتے وقت من وعن اپنایا گیا تھا؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہی ہونا چاہیے اور حکومت کو اسی حساب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنی چاہییں، لیکن میرے خیال میں کوئی بڑی کمی نہیں ہوگی کیونکہ اس میں پیٹرولیم ٹیکسز کی ایڈجسٹمنٹ آڑے آئے گی۔‘
وہ موجودہ صورتِ حال میں زیادہ پُرامید دکھائی نہیں دیتے اور ان کا ماننا ہے کہ ملک کی غلط معاشی پالیسیوں اور ناقص انتظامی امور کے باعث شاید حکومت عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہ کر سکے۔
دوسری جانب لاہور میں مقیم معروف انرجی ماہر علی خضر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہونی چاہیے۔ قیمتوں میں بڑی کمی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو یقیناً نقصان برداشت کرنا پڑے گا، لیکن یہ نقصان ویسا ہی ہوگا جیسے انہوں نے اس سے قبل منافع کمایا ہے۔‘

علی خضر نے واضح کیا کہ ’قیمت کا تعین چونکہ اُس ہفتے کی اوسط قیمت پر ہوتا ہے، اس لیے اس پورے ہفتے کی اوسط قیمت کے حساب سے کل (جمعے کو) نئی قیمت کا اعلان ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے مرتب کردہ تخمینے کے مطابق اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کم و بیش 40 روپے فی لیٹر تک کی کمی ہو سکتی ہے۔












