آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور ایڈیشنل آئی جی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سہیل ظفر چٹھہ نے چکوال واقعہ کے حوالے سے آئی جی آفس لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چکوال میں 9 سالہ بچی ہانیہ کی ہلاکت ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، جس پر پنجاب پولیس ہانیہ کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا کہ ’کسی بھی بے گناہ شہری کی جان کو کسی بھی پولیس کارروائی یا آپریشن کے پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا، اور پنجاب پولیس اس واقعے کی سنگینی کو مکمل طور پر تسلیم کرتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پولیس کا کام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اور اس واقعے کے فوری بعد فوجداری کارروائی عمل میں لائی گئی اور ذمہ دار اہلکار کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے بتایا کہ ’حقائق کی کھوج کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو کسی کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ سچ تک پہنچنے کے لیے کام کرے گی۔‘
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ ’کوئی ادارہ بھی اس وقت تک عوام کا اعتماد برقرار نہیں رکھ سکتا جب تک وہ اپنی غلطی تسلیم نہ کرے، اور پنجاب پولیس اپنے کسی اہل کار کے اختیارات سے تجاوز کی حمایت نہیں کر سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بطور ادارہ ہر فرد کو انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ چکوال واقعے کی ایمان داری سے تفتیش کی جائے گی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’چکوال واقعہ میں سی سی ڈی اہلکار نے طاقت کا غلط استعمال کیا، تاہم متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا اور ان کو ضرور انصاف ملے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پولیس افسروں کو شہریوں کے تحفظ کے لیے اختیارات دیے گئے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کا غلط استعمال کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔‘

آئی جی پنجاب نے صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیرہ غازی خان میں چند روز قبل چوکی پر حملہ ہوا جس کے بعد آج وہ شہید جوانوں کے گھر گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ حملے کے باوجود پولیس اہلکار اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم اب بھی جرائم پیشہ عناصر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں پولیس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ گزشتہ ایک سے دو ماہ میں سی سی ڈی کے دو اہلکار شہید ہوئے۔‘
ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے اس موقع پر کہا کہ ’بچی کے والد کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’موصول ہونے والی درخواست کے مطابق ہی مقدمہ درج کیا گیا کیوں کہ اس میں اگر تبدیلی کی جاتی تو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا۔‘
سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ ’یہ واقعہ ابتدائی طور پر حادثاتی معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکو متاثرہ خاندان کے ساتھ واردات کر رہے تھے اور اسی دوران سی سی ڈی کے افسر کا وہاں سے گزر ہوا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سی سی ڈی افسر جیسے ہی موقع پر پہنچا تو دو طرفہ فائرنگ شروع ہو گئی، اور اہل کار یہ سمجھ نہیں سکا کہ فائرنگ گاڑی کے اندر سے ہو رہی ہے یا باہر سے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’قانون پولیس افسر کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، اور سی سی ڈی کے تمام آپریشن سیلف ڈیفنس کے تحت ہی کیے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کی حکومت کو یقین دلاتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی شفاف تفتیش ہو گی، سی سی ڈی نیوٹرل ہے اور متاثرہ فریق کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔‘

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے بتایا کہ ’اگلے ہفتے کے آخری دن تک تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرا دیا جائے گا، اور عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ کیس کا جلد ٹرائل مکمل کیا جائے۔‘
سہیل ظفر چٹھہ نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں تفتیش مکمل ہونے تک عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ ’متاثرہ خاندان نے تفتیش پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘












