Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘، جاپانی مردوں کو خواتین کا ہاتھ بٹانے کا مشورہ

جاپان کی فٹ بال ٹیم کے مداحوں کی جانب سے ورلڈ کپ سٹیڈیمز کی صفائی کی تصاویر کو دنیا بھر میں سراہا گیا تاہم جاپان میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہوگئی ہے جس میں شکایت کی گئی ہے کہ مرد حضرات گھر میں ایسا کم ہی کرتے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فیفا نے اس ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاپانی شائقین کی ’مثالی تہذیب‘ کی تعریف کرتے ہوئے ان کی تصاویر شیئر کیں جن میں نیلے لباس میں ملبوس مداح میچ کے بعد سٹینڈز میں پڑا کچرا اٹھاتے دکھائی دیے۔
اس کے بعد اسی نوعیت کی مزید تصاویر بھی آن لائن گردش کرنے لگیں لیکن ایک ایکس پوسٹ اس دعوے کے باعث وائرل ہوگئی کہ جاپانی مرد اتنے مثالی نہیں جتنے انہیں سمجھا جاتا ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا ’جاپانی مرد دنیا بھر میں گھریلو کام کاج کے لیے سب سے کم وقت صرف کرنے والوں میں شامل ہیں۔
یہ پوسٹ 19 لاکھ بار دیکھی جا چکی ہے۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کام گھر میں بھی کریں۔‘ اس کے ساتھ ایک طنزیہ خاکہ بھی شامل تھا جس میں دکھایا گیا کہ سٹیڈیم کی صفائی پر فخر کرنے والا ایک مداح درحقیقت گھر میں صوفے پر آرام کر رہا ہے جبکہ کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے اور اس کی بیوی یا والدہ برتن دھو رہی ہیں۔

جاپانی مردوں کی گھریلو کاموں میں شرکت بدنام زمانہ حد تک کم ہے۔ جاپانی کابینہ کے دفتر کے مطابق 2021 کے او ای سی ڈی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ خریداری، گھریلو امور اور نگہداشت جیسے ’بلا معاوضہ کام‘ خواتین مردوں کے مقابلے میں 5.5 گنا زیادہ انجام دیتی ہیں۔
یہ فرق برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جہاں خواتین بالترتیب مردوں کے مقابلے میں 1.8 گنا، 1.7 گنا اور 1.6 گنا زیادہ وقت بلا معاوضہ کاموں میں صرف کرتی ہیں۔
 
اگرچہ بہت سے حامی سٹیڈیم کی صفائی کو جاپانی ثقافت میں موجود ایثار اور اجتماعی ذمہ داری کا ثبوت قرار دیتے ہیں، تاہم بعض ناقدین اسے کسی حد تک نمائشی عمل بھی سمجھتے ہیں۔
وائرل ہونے والی اس ایکس پوسٹ پر بھی رائے منقسم رہی۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جن بیویوں کے شوہر صفائی میں بالکل ہاتھ نہیں بٹاتے، انہیں چاہیے کہ وہ گھر میں بھی اپنے شوہروں کو سامورائی جاپان کی وردی پہنا دیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یہ حد سے زیادہ عمومی تاثر پیش کیا گیا ہے تمام جاپانی مرد ایسے نہیں ہوتے۔

شیئر: