سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ امریکہ کی بات چیت آج (جمعے کو) نہیں ہو گی کیونکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے جنیوا جانے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے، جس سے یہ غیر یقینی مزید بڑھ گئی ہے کہ کیا کوئی دونوں ممالک کے درمیان کوئی پائیدار جنگ بندی ممکن ہو سکے گی؟
عرب نیوز کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ برگن سٹاک کے پہاڑی تفریحی مقام پر ہونے والے مذاکرات اب نہیں نہیں ہوں گے، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس کی وجہ انتظامی مسائل کو قرار دیا لیکن یہ اعلان اُس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جو العرب سیٹلائٹ چینل المیادین نے نشر کی، جو سیاسی طور پر حزب اللہ کے قریب سمجھا جاتا ہے جس میں کہا گیا کہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ایران اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے میں تاخیر کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ایکسیئس کے رپورٹر بارک راوِد نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے مجھے بتایا کہ دورہ مؤخر کرنے کی ایک وجہ لبنان کی صورتِ حال سے متعلق ایرانی موقف بھی ہو سکتا ہے۔‘
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کے مذاکرات کار پہلے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ امریکہ عبوری معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہوا دکھائے، اور یہ بھی یقینی نہیں تھا کہ ایرانی وفد جنیوا جائے گا۔ یہ خبر امریکی نائب صدر کے جمعرات کے اعلان سے قبل دی گئی۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب سوئٹزرلینڈ میں ہو گی مگر ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے پر شبہات ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا کیونکہ دونوں ممالک کے صدور پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

واضح رہے کہ یہ معاہدہ مذاکرات کاروں کو 60 دن دیتا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کی حیثیت پر اتفاق کریں، جب تک کہ مدت میں توسیع نہ کی جائے اور ساتھ ہی ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا فنڈ اور دیگر مالی مراعات بھی شامل ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو محدود کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔
اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت بھی توجہ کا مرکز بنی، کیونکہ امریکی محکمہ دفاع نے قانون سازوں کو بتایا کہ اسے اخراجات پورا کرنے کے لیے 80 ارب ڈالر درکار ہیں۔
قریباً چار ماہ قبل جب امریکہ اور اسرائیل نے یہ جنگ شروع کی تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے تاکہ وہ کبھی ایسے ہتھیار نہ بنا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت ختم کی جائے، خطے میں اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت روکی جائے اور ایرانی عوام کو اپنی مذہبی حکومت کے خاتمے کا موقع دیا جائے۔
لیکن جب صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے، تو ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی حاصل نہیں ہو سکا تھا۔













