Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لالچ یا کھلاڑیوں کی صحت کا تحفظ، فیفا ورلڈ کپ میں ’ہائیڈریشن بریکس‘ پر تنقید کیوں؟

نیدرلینڈز کے کپتان کا کہنا ہے کہ ’میچز میں وقفے کے دوران اشتہارات کا آجانا مجھے زیادہ اچھا نہیں لگتا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ہائیڈریشن بریکس (پانی پینے کے وقفے) پر تنقید روز بروز بڑھ رہی ہے۔
نیدرلینڈز کی ٹیم کے کپتان ویرجیل فن دایک نے بھی اِن دو وقفوں پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’انہیں یہ وقفے زیادہ پسند نہیں، کیونکہ ہر بار کھیل رُکنے پر ٹی وی نشریات میں اِشتہارات شروع ہو جاتے ہیں، جس سے میچ کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق میچ کے دوران ہائیڈریشن بریک کا دورانیہ اگرچہ صرف چھ منٹ ہوتا ہے، تاہم الزام لگایا جاتا ہے کہ اس سے بنیادی طور پر فٹ بال کے کھیل کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔
ویرجیل فن دایک نے میگا ایونٹ میں جاپان کے خلاف 2-2 سے میچ ڈرا ہونے کے بعد کہا کہ ’ہائیڈریشن بریکس کچھ عجیب سی لگتی ہیں۔‘ 
’میں نے قریباً تمام میچز دیکھے ہیں اور ہر بار وقفے کے دوران اشتہارات آ جاتے ہیں اور یہ مجھے زیادہ اچھا نہیں لگتا۔ میرے خیال میں ٹی وی پر میچ دیکھنے والے غیر جانبدار شائقین کے لیے بھی یہ تجربہ ٹھیک نہیں ہے۔‘
اتوار کو ایونٹ کے شریک میزبان میکسیکو کے شہر مونٹری میں سویڈن اور تیونس کے میچ کے دوران بھی تماشائیوں نے ’ہائیڈریشن بریک‘ آنے پر بلند آواز میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ 
اسی طرح پیر کو اٹلانٹا میں سپین اور کیپ وردے کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران بھی شائقین نے ہائیڈریشن کا وقفہ ہونے پر آواز بلند کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
یہ وقفہ ہر ہاف کے وسط میں قریباً تین منٹ کے لیے دیا جاتا ہے، یعنی پورے میچ میں مجموعی طور پر اس کا دورانیہ چھ منٹ کا ہوتا ہے۔
 فیفا کے مطابق کھلاڑیوں کی صحت کے لیے ’ہائیڈریشن بریکس‘ دی جاتی ہیں، اور اسی لیے یہ وقفے ورلڈ کپ کے تمام میچوں میں رکھے گئے ہیں، چاہے موسم گرم ہو یا نہ ہو۔‘
اسی وجہ سے نیدرلینڈز اور جاپان کا میچ، جو ٹیکساس کے ایک ایئرکنڈیشنڈ اور چھت والے سٹیڈیم میں کھیلا گیا، وہاں بھی ’ہائیڈریشن بریکس‘ دی گئیں، حالانکہ میدان کے اندر درجہ حرارت مناسب تھا۔ 
ناقدین کا کہنا ہے کہ ’ایسے حالات میں وقفے کی ضرورت نہیں تھی، جبکہ فیفا کا موقف ہے کہ تمام میچوں کے لیے اُصول ایک ہی لاگو ہوتا ہے تاکہ ’کھلاڑیوں کی صحت‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

 برطانوی فٹ بال مصنف ہنری ونٹر کا کہنا ہے کہ ’عظیم ترین کھیل اور ایونٹ کو ڈالر کی خاطر نقصان پہنچایا گیا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز) 

’ڈالر کی خاطر کھیل کا نقصان؟‘ 
بعض ناقدین نے فیفا پر مالی فوائد اور لالچ کا الزام عائد کیا ہے جس کا اس ٹورنامنٹ اور اس کے منتظمین سامنا کر رہے ہیں، تاہم فیفا نے اِن الزامات کو مسترد کیا ہے۔
معروف برطانوی فٹ بال مصنف ہنری ونٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ سال ہے جب دو ہاف پر مشتمل کھیل چار کوارٹرز کے کھیل میں تبدیل ہو گیا۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’اور دنیا کے عظیم ترین کھیل اور ایونٹ کو ڈالر کی خاطر نقصان پہنچایا گیا۔‘
ہنری ونٹر کہتے ہیں کہ ’یہ ضروری ہے کہ اِس فیصلے کے خلاف ہر طرف مزاحمت کی جائے، کیونکہ اگر ہم نے اسے قبول کر لیا تو ہماری ٹی وی گیمز اس کا اگلا ہدف ہو سکتی ہیں۔‘
روایتی فٹ بال کے حامیوں کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ وقفے، اور اُن کے دوران اشتہارات سے آمدنی حاصل کرنے کا موقع، مستقبل میں دنیا بھر کے تمام فٹ بال مقابلوں میں بھی یہ طریقہ کار متعارف کروایا جا سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ انگلینڈ میں بی بی سی اور آئی ٹی وی میچوں کی نشریات کے دوران پانی کی بریک یا ہائیڈریشن بریک کے وقت کھیل سے ہٹ کر اِشتہارات نہیں دکھائے جاتے۔

ایک الزام یہ بھی ہے کہ کوچز ’ہائیڈریشن بریک‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمتِ عملی تبدیل کر لیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

کھیل کی رفتار میں تبدیلی
ایک الزام یہ بھی ہے کہ ’ہائیڈریشن بریکس‘ سے کھیل کی رفتار متاثر ہوتی ہے، یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے، لیکن کئی میچوں میں دیکھا گیا ہے کہ ’ہائیڈریشن بریک‘ کے فوری بعد میچ کا رُخ واضح طور پر ایک ٹیم سے دوسری ٹیم کی جانب منتقل ہو گیا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب کھلاڑی پانی پی رہے ہوتے ہیں تو کوچز اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمتِ عملی تبدیل کر لیتے ہیں یا اپنی ٹیم کو نئی ہدایات جاری کرتے ہیں، خاص طور پر جب میچ اُن کی توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہا ہوتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ’ہائیڈریشن بریک‘ صرف کھلاڑیوں کو پانی فراہم کرنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ مختصر ’ٹائم آؤٹ‘ کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس کے دوران کوچز کھیل کے انداز اور ٹیم کی حکمتِ عملی پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’اس سے فٹ بال کی وہ روایتی خصوصیت متاثر ہوتی ہے جس میں کھیل مسلسل جاری رہتا ہے اور کوچز کو دورانِ میچ محدود مواقعے پر ہی کھلاڑیوں تک براہِ راست ہدایات پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔‘

شیئر: