Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اپنے عہدے اور پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
پیر کو 10 ڈاؤن سٹریٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی اپنی ہی جماعت پوچھ رہی ہے کہ کیا وہ اگلے انتخابات کے لیے بہترین انتخاب ہیں یا نہیں؟
ان کے مطابق ’اس پر اپنی پارٹی کا جواب سن لیا ہے جس کو میں خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اپنے دو سالہ اقتدار کے دوران انہوں نے معیشت اور دفاع کے میدانوں میں اعتماد بحال کیا۔
ان کے مطابق جب لیبر پارٹی کی قیادت ان کے پاس آئی تو یہ جماعت ’سیاسی، مالی اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہو چکی تھی۔‘
کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ انہیں بار بار بتایا گیا کہ پارٹی ختم ہو چکی ہے مگر ان کو غلط ثابت کر کے دکھایا۔
ان کے استعفے کا مطالبہ رواں برس مئی میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد زور پکڑ گیا تھا کیونکہ ان میں حکمران جماعت تیسرے نمبر پر رہی تھی۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر نے لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑنے کا اعلان کیا (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئر سٹارمر اس سے قبل استعفیٰ دینے سے انکار کر چکے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے ملک کو افراتفری کی حالت میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا بلکہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری کروں گا۔‘
غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق وہ نئے پارٹی رہنما کے انتخاب تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے دو سال میں ملک کی معیشت کو مضبوط کیا اور ملک کے لیے بھرپور کام کیا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ آنے والے وزیراعظم کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور اقتدار کی منظم تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

استعفے کا اعلان کرتے وقت وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کیئر سٹارمر نے 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
برطانوی وزیراعظم کے بارے میں کچھ روز سے ایسی رپورٹس سامنے آ رہی تھیں کہ ان کو اپنی ہی جماعت کے اراکین کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے اور وہ مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اس تازہ صورت حال کے حوالے سے حکومت اور لیبر پارٹی کے اندر موجود بااثر شخصیات کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا دور مایوس کن رہا تھا۔

 

شیئر: