سیاست میں زلزلے اکثر اچانک ہی آتے ہیں۔ برسوں تک ایک ہی منظر چلتا رہتا ہے، لیڈر اپنی جگہ مضبوطی سے جما رہتا ہے اور پھر کوئی ایک واقعہ پورا نقشہ بدل دیتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ صرف چار دن قبل قبل برطانیہ کے ایک پارلیمانی حلقہ میکرفیلڈ کے ضمنی الیکشن میں پیش آیا۔ اس الیکشن میں لیبرپارٹی کے معروف لیڈر اینڈی برنہم جیتے ہیں۔ وہ گریٹ مانچسٹر کے سابق مئیر ہیں اور شمالی انگلینڈ میں مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں نارتھ انگلینڈ کےحقوق کے لیے سٹینڈ لینے کی وجہ سےعوامی حلقوں میں کنگ آف نارتھ بھی کہا جاتا ہے۔
معروف ڈرامہ سیزن ’گیمز آف تھرونز‘ دیکھنے والے جانتے ہیں کہ اس میں کہانی کا ہیرو جان سنو پہلے کنگ آف نارتھ کہلایا اور پھر پوری سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔
مزید پڑھیں
آج کل خاکسار بڑے ذوق و شوق سے روزانہ برطانوی اور امریکی اخبارات پڑھ رہا ہے، فائدہ یہ ہوا کہ بہت سی خبریں جو پاکستانی میڈیا میں عام طور سےشائع نہیں ہوتیں، وہ تفصیل سے پتہ چل جاتی ہیں۔
برطانوی میڈیا میں دو تین ہفتوں سے شور مچا ہوا تھا کہ میکرفیلڈ کا ضمنی الیکشن برطانوی سیاست کا رُخ متعین کرے گا۔ انڈیپنڈنٹ اخبار نے تو فرنٹ پیج سٹوری لگا دی کہ ساٹھ، ستر ہزار ووٹر پورے یوکے کی سیاست بدل سکتے ہیں۔
مجھے حیرت ہوئی کہ ایک ضمنی الیکشن سے کیا ہو جانا ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں لیبر کو بڑی واضح اور بھرپور اکثریت حاصل ہے، ایک سیٹ ہار بھی جائیں تو فرق نہیں پڑے گا۔
پھر پتہ چلا کہ اس الیکشن میں لیبر رہنما اینڈی برنہم امیدوار ہیں، وہ جیت گئے تو پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنی پارٹی کے وزیراعظم کیئرسٹارمر کو چیلنج کریں گے اور قوی امکانات ہیں کہ سٹارمر کو جانا پڑ جائے اور اگلے وزیراعظم برنہم بن جائیں۔
18 جون کو ضمنی الیکشن ہوگیا۔ اینڈی برنہم نے الیکشن خاصے مارجن سے جیت لیا۔ انہوں نے رائٹ ونگ جماعت یوکے ریفارم کے امیدوار کو شکست دی اور لیبر پارٹی کا ووٹ بڑھایا۔ اس ضمنی الیکشن کا ٹرن آؤٹ بھی خاصا رہا، ساٹھ فیصد کے قریب۔ الیکشن ایکسپرٹ اس کی وجہ اینڈی برنہم کی کرشماتی شخصیت کو قرار دے رہے ہیں۔

برطانیہ پارلیمانی جمہوریت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں مستحکم جمہوری روایات موجود ہیں، ہارس ٹریڈنگ کا تصور نہیں۔ سب سے اہم یہ کہ کسی حکمران جماعت کے ارکانِ اسمبلی اپنے وزیراعظم سے مطمئن اور خوش نہ ہوں اور پارٹی کو لگ رہا ہو کہ یہی وزیراعظم رہا تو ہم اگلا الیکشن ہار جائیں گے، تب پارٹی ایک پرامن سیاسی عمل کے ذریعے وزیراعظم کو ہٹا کر نیا وزیراعظم لے آتی ہے۔
کچھ پاکستانیوں کے لیے یہ حیرت کی بات ہوگی کہ ایسا کرتے ہوئے کوئی فارورڈ بلاک بنانا پڑتا ہے نہ ہارس ٹریڈنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سبکدوش ہونے والا وزیراعظم بھی اکثر اسی پارٹی کا حصہ رہتا ہے، اپنی سیاسی شکست کو وہ تسلیم کر لیتا ہے۔
پاکستان میں تو شاید یہ ناممکن ہے۔ کیا مسلم لیگی ارکان اسمبلی شہباز شریف کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا پیپلز پارٹی والے بلاول بھٹو کو پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے سبکدوش کر سکتے ہیں؟ تحریک انصاف میں عمران خان کے خلاف ایسی کوئی پرامن سیاسی تبدیلی آ سکتی ہے؟ یا کوئی چانس ہے کہ جے یو آئی کے ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمٰن کو ہٹا سکیں؟ نہیں، یہ تو شائد خواب میں بھی ممکن نہیں۔
برطانیہ میں خیر ایسا ہوتا رہا ہے۔ یہی کچھ 1990 میں مارگریٹ تھیچر کے ساتھ ہوا تھا، گیارہ سال تک حکومت کرنے والی آئرن لیڈی کو ان کی اپنی کابینہ کے وزرا نے ہی چلتا کر دیا تھا۔ پھر چار سال قبل بورس جانسن کے ساتھ ایسا ہوا۔ 2022 میں تین وزیراعظم تبدیل ہوئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ برطانوی نظام جتنا مستحکم نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی بے رحم بھی ہے۔ اب لگتا ہے ایک بار پھر برطانوی سیاست اپنی پرانی روایت دہرانے جا رہی ہے، اور اس بار مرکزی کردار وزیراعظم کیئر سٹارمر اور لیبر پارٹی کے ایک منجھے ہوئے رہنما اینڈی برنہم ہیں۔
کیئرسٹارمر بمقابلہ اینڈی برنہم
سوال یہ ہے کہ آخر لیبر پارٹی کے اندر ایک بڑا حلقہ وزیراعظم کیئر سٹارمر سے اس قدر ناخوش اور مایوس کیوں ہو گیا؟ ابھی تو انہیں وزیراعظم بنے دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔ لیبر پارٹی سٹارمر کو ہٹا کر اینڈی برنہم کو کیوں لانا چاہےگی؟ اس کی تین چار وجوہات ہیں؛
رائیٹ ونگ پارٹی ریفارم یوکے سے خطرہ: برطانوی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آچکی ہے جس کا پاکستانی میڈیا میں بالکل تذکرہ نہیں ہوا۔ وہاں طویل عرصے سے سیاست دو بڑی پارٹیوں کنزرویٹیو(ٹوری) پارٹی اور لیبر پارٹی میں منقسم تھی۔ اس وقت لیبر پارٹی حکمران ہے، مگر اپوزیشن جماعت کنزرویٹیو خاصی کمزور پڑ گئی ہے اور ہارڈ لائن رائٹ ونگ جماعت یوکے ریفارم زیادہ طاقتور ہوچکی ہے۔
بعض عوامی سروے یوکے ریفارم کو کنزرویٹیو پارٹی سے زیادہ مقبول قرار دے رہے ہیں۔

نائجل فراج یو کے ریفارم کے لیڈر ہیں۔ یہ پارٹی اور نائجل فراج دراصل امیگرنٹس کے شدید مخالف ہیں۔ یوں سمجھیں کہ برطانیہ میں موجود ہر خرابی، ہر مسئلہ اور عام آدمی کی زندگی میں جہاں کوئی مشکل ہے، نائجل فراج کے نزدیک اس کی ذمہ داری تارکینِ وطن پر عائد ہوتی ہے۔ ان میں جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن بھی ہیں اور دیگر ممالک سے آنے والے بھی۔
حال ہی میں ایک دو افسوسناک واقعات پیش آئے جن میں کسی ایشیائی یا افریقی امیگرنٹ نے مقامی سفید فام نوجوان کو نشانہ بنایا اور پھر فطری طور پر مقامی آبادی میں اس کا ردعمل آیا۔ اس پر نائجل فراج کے بیانیے میں مزید شدت پیدا ہوئی اور پذیرائی بھی بڑھی۔
اگلا الیکشن ہارنےکا خطرہ: لیبر پارٹی کے بیشتر اراکین پارلیمنٹ کو خطرہ یہ ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو اگلے الیکشن میں ریفارم یوکے ان کی سیٹیں جیت لے گی۔ یہ بات انہیں اچھی طرح سمجھ آگئی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنے دھیمے، معتدل اور کسی حد تک خاص اشرافیہ کے طرز سیاست سے نائجل فراج کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیبر پارٹی میں البتہ یہ خیال ہے کہ اگر اینڈی برنہم وزیراعظم ہوں اور وہ پارٹی کو لیڈ کریں تو نائجل فراج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
اینڈی برنہم بھی نائجل فراج کی طرح پرجوش عوامی مقرر ہیں۔ ان کا تعلق شمالی انگلینڈ سے ہے، وہاں فیکٹری ورکرز زیادہ ہیں جو روایتی طور پر لیبر پارٹی کے ووٹر تھے مگر اب ان میں سے کچھ ریفارم یوکے کی طرف جا رہے ہیں۔
لیبر پارٹی سمجھتی ہے کہ اشے صرف اینڈی برنہم واپس لا سکتے ہیں۔ ویسے بھی برنہم لیبر پارٹی کارکنوں میں سٹارمر سے کہیں زیادہ مقبول ہیں۔
جارحانہ رائٹ ونگ پالیٹکس کا جواب فلاحی پروگرام سے: یہ وہ نکتہ ہے جو لیبرپارٹی کو امید دلاتا ہے۔ دراصل اینڈی برنہم کا ایجنڈا زیادہ فلاحی ہے، وہ عوام کے لیے زیادہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ توانائی اور پانی کے شعبوں کو بتدریج سرکاری یا پبلک کنٹرول میں لانے کے حامی ہیں اور سوشل کیئر پروگرام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
لیفٹ کا پاپولزم: برطانیہ میں اس وقت نائجل فراج کی ’ریفارم یوکے‘ پاپولسٹ کارڈ کھیل رہی ہے۔ برنہم نے میکر فیلڈ میں یو کے ریفارم کو ہرا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دائیں بازو کے پاپولزم کا جواب بائیں بازو کے پاپولزم سے دے سکتے ہیں۔ یہ ہے وہ امید جو لیبر پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کو سٹارمر کی جگہ اینڈی برنہم کو نیا وزیراعظم لانے کی طرف لے جا رہی ہے۔

مانچسٹر ازم: اینڈی برنہم کا سیاسی نظریہ مانچسٹر ازم کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی ٹرانسپورٹ، پانی اور توانائی جیسے بنیادی شعبے نجی کمپنیوں کی بجائے ریاست کے کنٹرول میں ہونے چاہییں۔ انہوں نے مانچسٹر میں بسوں کا نظام واپس سرکاری کنٹرول میں لے کر اور کرایوں کی حد مقرر کر کے اپنے اسی نظریے پر عملی طور پر بھی عمل کیا۔
ضمنی الیکشن کا راستہ نکالا گیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ برنہم کی پارلیمنٹ میں واپسی کی پہلی کوشش نہیں تھی۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے گورٹن اینڈ ڈینٹن کی خالی نشست سے کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی، مگر لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نے، جس میں خود سٹارمر بھی شامل تھے، آٹھ کے مقابلے میں ایک ووٹ سے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ اب یہ ہوا کہ میکر فیلڈ کے لیبر رکن پارلیمنٹ جوش سائمنز نے جان بوجھ کر اپنی نشست چھوڑ دی تاکہ برنہم کو دوبارہ موقع مل سکے، گویا پارٹی کے اندر ہی ایک خفیہ راستہ بنایا گیا، اور اس بار سٹارمر چاہتے ہوئے بھی راستہ نہیں روک سکے۔
کیا 10 ڈائوننگ سٹریٹ کا مکین بدل جائے گا؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا برنہم واقعی چند دنوں میں ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچ جائیں گے؟
اس کا جواب لیبر پارٹی کے داخلی قوانین میں چھپا ہے۔ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ لیڈر کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے کم از کم 81 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوتی ہے، یہ پارلیمانی پارٹی کا 20 فیصد بنتا ہے، ساتھ ہی پانچ فیصد مقامی شاخوں یا کم از کم تین الحاق شدہ گروپوں کی توثیق بھی چاہیے۔
تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ مبینہ طور پر 110 کے قریب لیبر ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی سٹارمر سے رخصتی کا مطالبہ کرنے والے خط پر دستخط کر چکے ہیں، یعنی مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ۔
کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم سٹارمر نے اینڈی برنہم کو خاموش کرنے کے لیے کابینہ میں کوئی عہدہ دینے کی پیشکش بھی کی تھی، مگر برنہم کے قریبی حلقوں نے یہ پیشکش رد کر دی۔
گارڈین اخبار نے کوئنز میری یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر ٹم بیل کا ایک خوبصورت فقرہ نقل کیا ،جب کسی وزیراعظم کے ہاتھ سے اقتدار پھسلنا شروع ہوتا ہے تو وہ بہت تیزی سے پھسلتا ہے۔ خود سٹارمر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں مقابلہ کریں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے، مگر سیاست میں ایسے دعوے اکثر اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک قریبی ساتھی دغا نہ دے جائیں۔

یہاں ایک اور اہم کردار ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وزیر صحت ویس سٹریٹنگ۔ وہ مئی میں مستعفی ہوئے تھے اور اب وہ بھی وزیراعظم کے ممکنہ امیدوار بن چکے ہیں۔ یوں یہ مقابلہ صرف دو طرفہ نہیں رہتا بلکہ کم از کم تین طرفہ بن جاتا ہے، سٹارمر، برنہم اور سٹریٹنگ۔
سٹارمر اگر برنہم کی بڑی جیت دیکھ کر خود ہی باعزت طریقے سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور سٹریٹنگ بھی برنہم کی ناقابل تسخیر برتری دیکھ کر میدان سے ہٹ جائیں تو معاملہ چند دنوں میں طے ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں ڈٹے رہے تو معاملہ پارٹی ارکان کے ووٹ تک جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں پانچ چھ ہفتوں میں یہ معاملہ نمٹ سکتا ہے۔
دنیا میں لیفٹ پالیٹکس کا نیا ابھار
دلچسپ بات یہ ہے کہ برنہم کا یہ عروج عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی رجحان سے جڑتا ہے۔ نیویارک میں ظہران ممدانی کی کامیابی پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کس طرح بائیں بازو کی سیاست دائیں بازو کی پاپولر سیاست کا توڑ بن کر ابھر رہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ برنہم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ان کے پاس بورس جانسن جیسی عوامی کشش موجود ہے مگر نظریہ بالکل الٹ ہے۔ انہوں نے امیگریشن کے معاملے پر سخت مؤقف اپنا کر دائیں بازو کے ووٹر کو بھی مطمئن کیا اور ساتھ ہی معیشت میں عام آدمی کے حقوق کی بات کر کے بائیں بازو کا ووٹر بھی اپنے ساتھ جوڑا، یوں ریفارم یوکے کا اپنا ہی پاپولسٹ کارڈ الٹا برنہم کے کام آ گیا۔
امریکہ میں ظہران ممدانی نے مئیر لیول پر ایک بڑا کام کر دکھایا، برطانیہ میں مرکزی سطح پر یہ ہونےکا امکان ہے۔ البتہ برنہم کی خارجہ پالیسی کمزور کڑی سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ طویل عرصہ علاقائی سیاست تک محدود رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ کے معاملے پر 2023 میں پارٹی کی مرکزی پالیسی سے ہٹ کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، مگر وہ لیبر فرینڈز آف اسرائیل کے رکن بھی رہے ہیں اور انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو کھل کر نسل کشی کہنے سے گریز کیا۔ وہ اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ جیسے سخت گیر امریکی صدر سے نمٹنا ہوگا جو ان دنوں ایران اور یوکرین جیسے بڑے عالمی معاملات پر چھائے ہوئے ہیں۔
ایک شمالی انگلینڈ کا سوشلسٹ اور دوسری طرف امریکی قوم پرستی کا سب سے بڑا علمبردار، یہ سامنا دیکھنے کے قابل ہو گا۔ یہی برنہم کا سب سے کٹھن امتحان ہوگا۔
ادھر میکر فیلڈ کے ضمنی الیکشن والے دن سکاٹ لینڈ میں بھی دو ضمنی انتخابات ہوئے۔ ایک سیٹ توقع کے مطابق سکاٹش نیشنل پارٹی کے پاس ہی رہی، مگر ایبرڈین ساؤتھ کی سیٹ کنزرویٹیو پارٹی نے ایس این پی سے چھین لی، جو کنزرویٹیو کی سیاہ فام قائد کیمی بیڈنوک کے لیے ایک بڑا حوصلہ ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ بدعنوانی کے سکینڈلز کے بعد سکاٹ لینڈ میں بھی روایتی جماعتوں سے عوام کا اعتماد ہل رہا ہے۔
یوں ایک ہی رات میں برطانیہ کے دو مختلف کونوں سے ایک ہی پیغام آیا، عوام پرانے چہروں سے تنگ آ چکے ہیں۔ یوں مجموعی صورتحال یہ بنتی ہے کہ برطانوی سیاست واقعی ایک بڑے بھونچال کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ تبدیلی خواہ جیسے بھی آئے، پرامن اور جمہوری انداز میں آئے اور برطانیہ جیسی پرانی جمہوریت کو بھی یہ سبق ملے کہ عوام کا فیصلہ بہرحال سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے، چاہے وہ کسی ایک ضمنی انتخاب ہی کی صورت میں کیوں نہ آئے۔
سال کے آغاز میں کیئر سٹارمر نے نئے سال میں نئے کیئر کا وعدہ کیا تھا، اب لگتا ہے برطانوی عوام نئے کیئر سے زیادہ بالکل ہی نیا وزیراعظم لینے کے موڈ میں ہیں۔












