Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی کسان کا وہ جذبہ جس نے انہیں آم کا باغ لگانے میں مدد کی

النشیری کی کہانی ثابت قدمی، گرنے اور گر کر پھر سے سنبھلنے کی ایک داستان ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کے کہانی ہے جس نے مُشکلوں میں گھرے ہوئے آغاز کی پرواہ کیے بغیر یہ فیصلہ کیا کہ اُسے جیون میں کیا کرنا ہے۔
عرب نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں النشیری نے بتایا کہ اُن کے دل میں زراعت سے محبت کا بیج کس طرح بویا گیا۔ انھیں یہ شوق اپنے مرحوم والد سے مِلا جو دیگر فصلوں کے علاوہ باجرے اور مکئی کی فصل کاشت کر کے گزر بسر کرتے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں جایا کرتے تھے اور اُنھیں ہل چلاتے، بیج بوتے اور فصل کاشت کرتے دیکھتے۔ اِن تجربات نے النشیری کے دل میں زمین کے ساتھ محبت کا کبھی ختم نہ ہونے والا جذبہ پیدا کر دیا۔
میری والدہ گھر اور پالتوں جانوروں کے لیے پانی کی تلاش میں نکلا کرتی تھیں اور روزانہ پیدل چل کر گاؤں سے پانچ کلو میٹر دور کنویں سے پانی لاتیں۔‘
کچھ عرصے بعد قریب ہی ایک تالاب تعمیر کر دیا گیا جہاں ٹینکروں سے پانی بھرا جاتا تھا۔ پانی کی اِس دستیابی نے النشیری میں کھیتی باڑی کی مہارت پیدا کر دی۔ زراعت میں اُن کی دلچپسی روز بروز بڑھتی گئی جس میں سعودی ریڈیو سے نشر ہونے والے پروگرام ’دا گُڈ لینڈ‘ اور مقامی طور پر معنقد کیے جانے والے زرعی فیسٹیولز نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔
سنہ 1990 میں اُن کے خاندان نے گھر کے قریب پہلا کنواں کھودا جس سے زیرِ زمین پانی باہر آ گیا اور اُنھیں کھیتی باڑی کے لیے پانی کا ایک قابلِ انحصار ذریعہ مل گیا۔

النشیری نے آم کے 200 درختوں کے ساتھ کام شروع کیا تھا (فوٹو: عرب نیوز)

اپنے والد کی مدد کے ساتھ، النشیری نے پہلے پہل مکئی اور پھلی دار فصلیں (مٹر، مسُور، چنا، مونگ، لوبیا وغیرہ) اگانی شروع کیں لیکن بعد میں وہ آم کی فصلیں اگانے کی طرف مائل ہوگئے جو اُس وقت علاقے میں نسبتاً نئی فصل تھی۔
والد کی وفات کے بعد، اُنھوں نے بھائیوں کے ساتھ مل خاندانی زرعی فارم کو وسعت دی اور اضافی زمینوں کی قانونی ملکیت حاصل کر کے کھیتی باڑی کے کام کو ایک منصوبے کی شکل دے دی۔
النشیری بتاتے ہیں کہ انھوں نے آم کے 200 درختوں کے ساتھ کام شروع کیا تھا اور گرچہ ابتدائی سال اپنے ساتھ کئی چیلنج لائے، وہ رفتہ رفتہ پیداوار کو بڑھاتے رہے۔ آموں کے لیے منعقد کیے جانے والے فیسٹیول اور متعلق اداروں کے تعاون کے باعث، کسان منظم ہوئے اور انھوں نے اِس شعبے کو درپیش مسائل کے بارے میں آواز اٹھائی اور آگاہی پیدا کی۔

النشیری کے فارم میں اب 1500 سے زیادہ درخت ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

النشیری کھجوروں، لیموں، انجیر اور انار کی فصلیں بھی اگاتے رہے اور جب وہ اپنے کھیتوں کو سیاحتی فارم اور خاندانی تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے قریب تر ہوئے تو انھیں اپنے فارم کے نامیاتی ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی مل گیا۔
النشیری کے فارم میں اب 1500 سے زیادہ درخت ہیں۔ انھوں نے وزارتِ ماحولیات، آب اور زراعت کی القنفذہ برانچ کے سربراہ حسن بن ابراہیم الموعید کی تعریف کی اور ’مکہ پرووِنس ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ کے اقدامات کو بھی سراہا جن کی وجہ سے انھیں اپنا منصوبہ آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
النشیری نے ہر اُس شخص کا شکریہ ادا کیا جس نے اُن کے اِس سفر میں معاونت کی اور کہا کہ وہ سعودی گرین انیشیٹیو کے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور زراعت کو اپنی شناخت کا اٹوٹ حصہ بنائیں گے۔

شیئر: