Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمان نے آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کھول دیے، ’کوئی ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا‘

آئی ایم او اور عمانی حکام کے باہمی تعاون سے تیار کردہ منصوبے کے تحت جہازوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ (فوٹو: روئٹرز)
عمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا اور اس پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی عمان نے خطے سے روانہ ہونے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے موجودہ بحری راستے کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے بھی مقرر کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عمان نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے تعاون سے عارضی بحری راہداریاں قائم کی ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے دوران جہاز محفوظ طریقے سے علاقے سے نکل سکیں۔
آبنائے ہرمز، جو جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ تھا، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے تجارتی جہاز رانی کو محدود کر دیا اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کی۔
بحری جہازوں کے لیے جاری کردہ ایک نوٹس میں عمان نے کہا کہ اس وقت اس اہم آبی گزرگاہ میں موجود ’ٹریفک سیپریشن سکیم‘ محفوظ استعمال کے قابل نہیں رہی، لہٰذا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز موجودہ بحری راستوں کے شمالی اور جنوبی جانب قائم کیے گئے عارضی راستے استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ اسکیم 1968 میں اقوام متحدہ کے بحری ادارے نے منظور کی تھی، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں ایرانی اور عمانی پانیوں کے ذریعے مخصوص جہاز رانی کے راستے متعین کیے گئے تھے۔
خلیجی عرب ریاست عمان نے کہا کہ یہ اقدامات آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں، عالمی معیشت میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت، بین الاقوامی قانون اور جہاز رانی کی آزادی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ عمان نے اس سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ مفاہمت کا بھی حوالہ دیا۔
عمان نے زور دیا کہ بحری سفر کی حفاظت سب سے اہم ترجیح ہے اور تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں انجام دینا ضروری ہے۔
آئی ایم او اور عمانی حکام کے باہمی تعاون سے تیار کردہ منصوبے کے تحت جہازوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر جہاز سے الگ رابطہ کر کے روانگی کے وقت اور استعمال کیے جانے والے راستے کے بارے میں ہدایات دی جائیں گی۔

شیئر: