Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی خطرات کا الرٹ جاری، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقے ہائی الرٹ پر

تیز درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئرز اور برف کے تیزی سے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کر سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید بارشوں اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے خطرے کے پیش نظر 27 جون سے تین جولائی تک خصوصی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ’خطے میں مسلسل بلند درجہ حرارت اور آئندہ چند روز کے دوران متوقع بارشوں اور گرج چمک کے باعث گلیشیئرز اور برف کے تیزی سے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ متوقع ہے۔‘
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’اس صورتحال سے گلیشیئرز سے بننے والے جھیلوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور ملبے کے بہاؤ جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘
این ڈی ایم اے کے تازہ ترین موسمی الرٹ کے مطابق ’پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔‘ متاثرہ علاقوں میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، نگر، غذر، دیامر، استور، گانچھے، شگر، خرمنگ، مظفرآباد، وادی نیلم، باغ، راولاکوٹ، کوٹلی، حویلی، پونچھ، میرپور، بھمبر اور گردونواح کے علاقے شامل ہیں۔
الرٹ میں ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گانچھے، خرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات اور دیگر گلیشیئر سے متاثرہ وادیوں کو خاص طور پر حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان میں بدسوات، اشکومن، ہینارچی، ترسات ہندور، التار، اویر، چیانتر، گپس، یاسین، سوست، روشن، ہاکس، چاٹی بوئی، تھالو، ریشون، بریپ، بونی، سردار گول اور پنڈورو چاٹ سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث مقامی سطح پر برفانی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، ملبے کے ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے سے نشیبی آبادیوں، سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ بعض دور دراز پہاڑی علاقوں میں آمدورفت عارضی طور پر متاثر ہونے اور آبادیوں کے زمینی رابطے منقطع ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔‘

این ڈی ایم اے نے حساس گلیشیائی جھیلوں، دریاؤں کے بہاؤ اور موسم کی نگرانی کی ہدایت کی ہے (فائل فوٹو: اے پی)

این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ’حساس برفانی جھیلوں، دریاؤں کے بہاؤ اور موسمی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے۔‘ مقامی آبادیوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ’پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافے، دریا کے پانی کے رنگ میں تبدیلی یا گلیشیئرز سے غیر معمولی آوازوں کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ کو اطلاع دیں۔‘
سیاحوں، مسافروں اور مقامی رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گلیشیئر سے نکلنے والے دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کریں، خراب موسم کے دوران احتیاط سے سفر کریں اور سرکاری موسمی وارننگز اور ابتدائی انتباہی اطلاعات پر مسلسل نظر رکھیں۔

شیئر: