وینزویلا زلزلہ، ہلاکتیں 1400 سے بڑھ گئیں، ملبے تلے زندگی کے آثار معدوم
وینزویلا کو اس قدرتی آفت کا سامنا ایسے وقت میں ہوا ہے جب وہ پہلے ہی معاشی و سیاسی بحران کا شکار ہے (فوٹو: روئٹرز)
وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں مرنے والواں کی تعداد ایک ہزار چار سو 30 ہو گئی ہے جبکہ ملبے تلے مزید زندہ افراد کی امیدیں مدھم پڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کا نشانہ بننے والے مختلف مقامات پر تیسرے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ اب بھی ہزاروں افراد لاپتہ ہیں جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب وینزویلا پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔
اس کی وجہ امریکی فوج کا وہ آپریشن تھا جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے ملک کے حالات بہتر نہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی اور دوسری بنیادی ضروریات دستیاب نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے آنے کے بعد پہلے 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران ہی زیادہ سے زیادہ زندہ لوگوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کے زندہ ملنے کی امیدیں کم ہوتی جاتی ہیں۔
السواڈور سے تعلق رکھنے ایک امدادی کارکن جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ ’اس مرحلے پر غالب امکان یہی ہے کہ ہمیں صرف لاشیں ملیں، اگر کچھ لوگ زندہ مل جائیں تو خدا کا بہت شکر ہو گا۔‘
ملک کے عبوری رہنما کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات گئے کیرابالیڈا کے علاقے میں ایک 11 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو بیان، جس میں وہ ریسکیو ورکروں کے ہمراہ تھے، کا کہنا تھا کہ ’ہر زندگی وینزویلا کے لیے امید کا ذریعہ ہے۔‘
دوسرے ممالک کی جانب سے امداد لینے پر مقامی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا جبکہ امریکی حمایت روڈریگز نے مدد فراہم کرنے دوسرے ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ سائمن بولیوار بین الاقوقامی ہوائی اڈے کا ایک رن وے جزوی طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ طیارے امدادی سامان لے جا سکیں جبکہ امریکی بحریہ کا ایک جہاز وینزویلا کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وینزویلا میں 24 جون کو خوفناک زلزلہ آیا تھا جس کے بعد 188 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لواحقین اور امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے بے تاب کوششیں کرتے رہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شب شمالی وینزویلا میں ایک منٹ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور ہزاروں افراد گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں لوگ ملبے کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے اور ان کے نام پکارتے دکھائی دیے۔