کراچی میں رینجرز پر حملہ، پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج
کراچی میں رینجرز پر حملہ، پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج
پیر 29 جون 2026 13:11
ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ کراچی حملے میں افغان شہری ملوث تھے: فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جس پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا گیا ہے۔
پیر کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ افغان ناظم الامور کو پچھلی رات وزارت خارجہ میں طلب کر کے سخت احتجاج کیا گیا جبکہ کابل میں پاکستان کے سفیر عبیدالرحمان نظامانی نے بھی افغان وزارت خارجہ کے سامنے ایسا ہی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ کراچی کے حملے میں افغان شہری ملوث تھے جن میں سے ایک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سفارتی احتجاج اس حقیقت کے پیشِ نظر ریکارڈ کرایا گیا کہ اس حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جن میں ایک حملہ آور کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا۔ اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہری پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ’یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان کی سرزمین اور افغان شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی مںصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔‘
سنیچر کو کراچی کے علاقے موسمیات کے قریب یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ) کے مقامی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں رینجرز کے کم از کم تین اہلکار جان سے گئے جبکہ تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے اخبار کو بتایا کہ سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں تین دہشت گرد بھی مارے گئے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں 29 دہشت گرد مارے گئے (فوٹو: اے پی پی)
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اتوار کو وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد، سکیورٹی فورسز نے پاکستان،افغانستان سرحد کے ساتھ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس پر جاری بیان میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔