Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مرد کیوں نہیں؟‘، جب فرانسیسی برانڈ نے ریمپ پر مردوں کو پلاسٹک کے جوتے پہنا دیے

لگژری برانڈ سینٹ لارنٹ نے مردوں کے لیے ایسے شوز پیش کیے جن میں پاؤں واضح طور پر نظر آتا ہے۔(فوٹو: ڈبلیو ڈبلیو ڈی)
فیشن کی دنیا میں خواتین کے لیے شیشے جیسے شفاف آر پار نظر آنے والے جوتے کوئی نئی بات نہیں، لیکن اب یہ رجحان مردوں کے فیشن میں بھی داخل ہو گیا ہے۔
امریکی فیشن میگزین ڈبلیو ڈبلیو ڈی کے مطابق فرانسیسی لگژری برانڈ سینٹ لارنٹ نے پیرس مینز فیشن ویک کے دوران اپنی سپرنگ 2027 کلیکشن میں مردوں کے لیے ایسے ڈریس شوز پیش کیے جن میں پاؤں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
یہ جوتے برانڈ کے تخلیقی ڈائریکٹر انتھونی ویکاریلو نے متعارف کرائے۔ انہیں مختلف رنگوں میں تیار کیا گیا اور ریمپ پر بیلٹ والے کوٹ، ڈھیلے سوٹ اور سینٹ لارنٹ کے روایتی ملبوسات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ 
اب تک اس طرز کے جوتے زیادہ تر خواتین کے فیشن سے وابستہ رہے ہیں۔ پی وی سی، ٹی پی یواور دیگر شفاف مواد سے بنے جوتے کئی برسوں سے فیشن ریمپ اور اسٹریٹ فیشن کا حصہ ہیں۔ 
گلوکارہ سیارا اور اداکارہ مینڈی کیلنگ سمیت کئی معروف شخصیات بھی مختلف مواقع پر ایسے جوتے پہن چکی ہیں۔ تاہم مردوں کے لیے اس طرز کے ڈریس شوز پہلی بار نمایاں انداز میں متعارف کرائے گئے ہیں۔
 فیشن ایڈیٹر مائلز سوچا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سینٹ لارنٹ کے شو میں طویل نوک والے شیشے جیسے شفاف جوتے پیرس کی شدید گرمی کے باعث نمی اور پسینے سے دھندلے دکھائی دے رہے تھے، جو شو کے مجموعی منظر کا حصہ بن گئے تھے۔

ویکارّیلو نے اس نئے ڈیزائن کے بارے میں کہا، ’میں نے خود سے پوچھا، خواتین ہی پلاسٹک کے جوتے کیوں پہنیں، مرد کیوں نہیں؟‘۔(فوٹو: ڈبلیو ڈبلیو ڈی)

ویکارّیلو نے اس نئے ڈیزائن کے بارے میں مسکراتے ہوئے کہا، ’میں نے خود سے پوچھا، خواتین ہی پلاسٹک کے جوتے کیوں پہنیں، مرد کیوں نہیں؟‘
سینٹ لارنٹ نے ان جوتوں کی تصاویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by SAINT LAURENT (@ysl)

ایک صارف نے کمنٹس میں سوال اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کیا ہم پہلے ہی کافی کچھ نہیں جھیل چکے؟‘جبکہ ایک اور صارف پسند کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے’مجھے یہ ضرور چاہیے۔‘
زیادہ تر صارفین نے مردوں کے لیے شفاف جوتوں کے خیال کو پسند نہیں کیا، تاہم بعض نے اسے فیشن میں ایک منفرد اور جرات مندانہ تجربہ قرار دیا۔ ڈبلیو ڈبلیو ڈی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ شاید اگر یہ جوتے کھلے اگلے حصے (اوپن ٹو) کے ہوتے تو ردعمل کچھ مختلف ہوتا۔
حالیہ برسوں میں مردوں کے جوتوں کی مارکیٹ میں نئے ڈیزائنوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
 سینٹ لارنٹ کے علاوہ دیگر برانڈز بھی روایتی انداز سے ہٹ کر تجربات کر رہے ہیں۔ ان میں کرسچین لوبوٹن کے لیے جیڈن اسمتھ کے تیار کردہ ڈیزائن بھی شامل ہیں، جن میں منفرد رنگوں اور چوڑے اگلے حصے والے جوتے پیش کیے گئے ہیں۔

شیئر: