Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمان کے ساتھ پہلی میٹنگ کی گئی: ایران

عمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی ’گزرگاہ فیس‘ کا کوئی منصوبہ زیرِغور نہیں ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پانے کے بعد عمانی حکام کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق پہلی میٹنگ کی گئی ہے۔
ایران اور عمان دونوں کا کہنا ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ پر اختیار رکھتے ہیں، جو خلیجی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے جسے ایران نے جنگ کے دوران بند کر دیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’مسقط کے دورے کے دوران مشترکہ ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا‘، تاہم انہوں نے تاریخ کی وضاحت نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے سے متعلق موجودہ مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے مستقبل کے انتظام پر خیالات کا تبادلہ کیا۔‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جس کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر (18 میل) ہے۔
اس آبی گزرگاہ کا مستقبل ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں ایک بڑا اختلافی نکتہ رہا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز پر ’سروس فیس‘ عائد کرنے پر غور کر رہا ہے جو جنگ سے پہلے موجود نہیں تھی، جبکہ امریکہ کسی بھی قسم کے محصول کی مخالفت کرتا ہے اور یہ مؤقف رکھتا ہے کہ ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔
حالیہ دنوں میں عمان نے اس معاملے پر قدرے مبہم مؤقف اختیار کیا ہے۔
گزشتہ منگل کو ایرانی حکام کے عمان کے دورے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ آبنائے کے مستقبل کے انتظام سے متعلق اخراجات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تاہم اسی ہفتے کے آخر میں عمان نے عندیہ دیا کہ کسی ’گزرگاہ فیس‘ کا منصوبہ زیرِغور نہیں ہے اور اپنی ساحلی پٹی کے قریب ایک ’عارضی بحری راہداری‘ کھولنے کا اعلان کیا، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے تعاون سے قائم کی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جس کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر ہے (فوٹو: روئٹرز)

ایران نے اس کے جواب میں کہا کہ صرف اس کی اپنی ساحلی حدود کے ساتھ قائم راہداری ہی مجاز راستہ ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو خبردار کیا کہ متبادل راستوں کے استعمال کی کوئی بھی کوشش خطے میں ’کشیدگی بڑھا سکتی ہے‘۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کشیدگی میں اچانک اضافہ ہوا، جس کے دوران ایران نے آبنائے میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا اور امریکہ نے جواباً ایرانی ساحلی اہداف پر حملے کیے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق ’ایران، سلطنتِ عمان کے ساتھ بات چیت کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کا تعین کیا جا سکے، اور یہ عمل دیگر خلیجی ساحلی ریاستوں سے مشاورت اور بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق ہوگا۔‘
متن کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد صرف 60 دن کے لیے آبنائے سے گزرنے پر کوئی فیس نہیں ہوگی، تاہم اس مدت کے بعد کیا ہوگا یہ ابھی واضح نہیں۔

شیئر: