Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی

سماعت کے دوران ٹرمپ خود بھی سپریم کورٹ میں موجود رہے، جو کسی حاضر سروس امریکی صدر کی جانب سے غیر معمولی اقدام تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے ان کی امیگریشن پالیسی کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت نے تین کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کے پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے اپنی موجودہ عدالتی مدت کے آخری روز سنائے گئے اہم فیصلے میں قرار دیا کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم یا عارضی ویزے پر موجود والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں۔
چیف جسٹس جان رابرٹس کی جانب سے تحریر کیے گئے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے تمام بچے امریکی قوانین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے انہیں پیدائش کے وقت ہی امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے ہی روز ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن یا عارضی ویزے پر موجود افراد کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت دینے کا سلسلہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
تاہم نچلی عدالتوں نے اس حکم کو آئین کی چودھویں ترمیم سے متصادم قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔
سماعت کے دوران ٹرمپ خود بھی سپریم کورٹ میں موجود رہے، جو کسی حاضر سروس امریکی صدر کی جانب سے غیر معمولی اقدام تھا۔ انہوں نے حکومت کے وکیل جان ساؤر کے دلائل سنے، تاہم امریکی سول لبرٹیز یونین کی وکیل سیسیلیا وانگ کے دلائل سے قبل عدالت سے روانہ ہو گئے تھے۔
فیصلے کے بعد سیسیلیا وانگ نے کہا کہ عدالت نے اس بنیادی امریکی اصول کی توثیق کی ہے کہ ’اگر آپ امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ امریکی شہری ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی صدر محض صدارتی حکم کے ذریعے آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پیدائشی شہریت کی موجودہ پالیسی غیر قانونی امیگریشن اور ’برتھ ٹورازم‘ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کے تحت بعض غیر ملکی صرف بچے کو امریکی شہریت دلانے کے لیے امریکہ آتے ہیں۔
تاہم سپریم کورٹ نے اپنے 1898 کے تاریخی فیصلے وونگ کم آرک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے اور امریکی قوانین کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام بچوں کو پیدائشی شہریت حاصل ہے۔
یہ فیصلہ موجودہ عدالتی مدت میں صدر ٹرمپ کے لیے تیسرا بڑا قانونی دھچکہ ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ فروری میں ان کے بیشتر عالمی محصولات (ٹیرف) کالعدم قرار دے چکی ہے، جبکہ پیر کے روز عدالت نے فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو عہدے سے ہٹانے کی ان کی کوشش بھی روک دی۔

شیئر: