Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے سائے میں پروان چڑھنے والی دو صحافیوں کی محبت کی داستان، ’برڈز آف وار‘ برطانیہ میں ریلیز

شام کی خانہ جنگی اور لبنان کے عوامی احتجاج کے پس منظر میں بننے والی دستاویزی فلم ’برڈز آف وار‘ برطانیہ کے سینما گھروں میں ریلیز کر دی گئی ہے، جس میں دو صحافیوں کی جنگ کے دوران جنم لینے والی محبت کی حقیقی کہانی پیش کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ کہانی لندن میں مقیم بی بی سی کی صحافی جنائے بولوس اور شامی کیمرہ مین عبدالقادر حبک کی ہے، جن کی پہلی پیشہ ورانہ ملاقات 2016 میں اس وقت ہوئی جب حلب کی جنگ کے آخری مہینوں میں بولوس نے حبک سے ویڈیو فوٹیج حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔
پیشہ ورانہ تعلق جلد ہی ذاتی رشتے میں بدل گیا، جو تحریری اور صوتی پیغامات کے ذریعے مضبوط ہوتا گیا۔ بعد ازاں دونوں کی شادی ہوئی اور وہ لندن میں آباد ہو گئے۔
دستاویزی فلم میں شام کی خانہ جنگی، حلب پر حملوں کے بعد کے مناظر، عبدالقادر حبک کی شام سے ہجرت اور 2019 میں لبنان میں ہونے والے احتجاج کو دونوں صحافیوں کی اپنی فلمائی گئی ویڈیوز اور ایک دوسرے کو بھیجے گئے پیغامات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، جو جنگ کے اثرات سے جڑی انسانی زندگی کی ایک نہایت جذباتی تصویر سامنے لاتے ہیں۔
جنائے بولوس کا کہنا ہے کہ اکثر خبروں کی سرخیاں لوگوں میں خوف پیدا کرتی ہیں، جبکہ انسانوں کے پس منظر، ان کے حالات اور ان کی مشکلات کو سمجھنے سے ہمدردی اور انسانیت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔
عبدالقادر حبک، جن کا تعلق حلب سے ہے اور جو شام کی جنگ کے دوران حلب میں کام کرتے رہے، 2017 میں شام چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ تاہم 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ کئی مرتبہ شام جا چکے ہیں، جبکہ جنائے بولوس بھی، جنہوں نے آزاد فلم سازی کے لیے بی بی سی چھوڑ دی، باقاعدگی سے لبنان کا سفر کرتی ہیں۔
عبدالقادر حبک کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً ہر ماہ شام جاتے ہیں جبکہ جنائے بھی ہر ماہ لبنان کا رخ کرتی ہیں، جہاں دونوں مل کر نئی کہانیاں دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔
’برڈز آف وار‘ کو امریکی سنڈینس فلم فیسٹیول میں سپیشل جیوری پرائز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ فلم کا عنوان اس لقب سے لیا گیا ہے جو شام کی جنگ کی رپورٹنگ کے دوران دونوں صحافی ایک دوسرے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
جنائے بولوس کے مطابق، ’یہ فلم دو ایسے لوگوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، لیکن جنگ بار بار ان کے درمیان آ کھڑی ہوتی ہے۔‘

شیئر: