Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا پیدائشی شہریت محدود کرنے کا حکم مسترد کر دیا

ٹرمپ نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’ملک کے لیے افسوسناک‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت (برتھ رائٹ سیٹیزن شپ) کو محدود کرنے کے لیے جاری کیے گئے صدارتی حکم کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بیشتر بچوں کو آئین کے تحت شہریت حاصل ہے، خواہ ان کے والدین غیر قانونی یا عارضی طور پر ملک میں مقیم ہوں۔
سپریم کورٹ نے چھ کے مقابلے میں تین ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے ٹرمپ کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی آئین کی 14ویں ترمیم، جو خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی، واضح طور پر امریکہ میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت کا حق دیتی ہے، سوائے چند محدود استثنائی حالات کے۔‘
چیف جسٹس رابرٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’شہریت ماضی میں بھی اور آج بھی حقوق رکھنے کا حق ہے اور 14ویں ترمیم کے معماروں نے یہ حق اس سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر آزاد شخص تک توسیع دی تھی۔‘
جسٹس بریٹ کیوانا نے آئینی تشریح سے اختلاف کیا، تاہم انہوں نے ایک وفاقی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔
دوسری جانب جسٹس کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور نیل گورسچ نے ٹرمپ کی مجوزہ پابندیوں کی حمایت کی۔ جسٹس تھامس نے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ’عدالت نے غیر ملکی عارضی رہائشیوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو شہریت دینے کے معاملے میں آئین کی حد سے زیادہ وسیع تشریح کی ہے۔‘
ٹرمپ نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’ملک کے لیے افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا کہ کانگریس قانون سازی کے ذریعے اس معاملے کو حل کر سکتی ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا فیصلہ آئینی بنیادوں پر ہے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دن اس حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جو ان کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ حکم نافذ ہو جاتا تو ہر سال امریکہ میں پیدا ہونے والے ڈھائی لاکھ سے زائد بچوں کی شہریت متاثر ہو سکتی تھی۔
عدالت کے فیصلے سے امریکہ میں پیدائشی شہریت کے طویل عرصے سے قائم آئینی اصول کو برقرار رکھا گیا ہے۔

شیئر: