Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چمکدار پتھر ’المرو‘ مملکت کے تعمیراتی حسن کی شناحت

پتھر کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے مہارت سے عمارت میں لگایا جاتا تھا ( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن میں روایتی پھتریلے مکانات آج بھی اپنی منفرد تعمیراتی فن کی جھلک دکھاتے ہیں۔ قدیم عمارتوں میں استعمال ہونے والا قدرتی سفید چمکدار پتھر ’المرو‘ آج بھی فن تعمیر کی منفرد شناخت ہے۔
دہائیوں سے یہ چمکدار پتھر گھروں کی بیرونی دیواروں کی آرائش کے حوالے سے اہمیت کا حامل رہا ہے اور عسیر ریجن کے ماہرین تعمیرات کے فن کی عکاسی کرتا ہے۔
ان پتھروں سے دروازوں، کھڑکیوں اور عمارتوں کے بالائی حصوں پر مثلث، مربع، عمودی اور افقی نقش و نگار انہیں مہارت سے بنائے جاتے، جس سے سفید چمکدار پتھر اور گہرے رنگ کے پتھروں کا خوبصورت امتزاج ابھر کر سامنے آتا۔
’المرو‘ پتھر کا استعمال صرف آرائش تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ عسیر ریجن کی روایتی تعمیراتی حسن کی علامت اور شناخت بھی تھا۔

ریجن کی عمارتوں میں ’المرو‘ کے ساتھ دیگر معروف آرائشی اشیا بھی استعمال کی جاتی تھیں، ان میں الخارجہ، الخضار، الخمشہ، الشرفات، القضب اور القطران شامل تھے، ان اشیا سے انتہائی منفرد جمالیاتی اندازتشکیل پاتا، جو عسیر کی ثقافتی شناخت اور مقامی ماحول سے اس کے تعلق اور مکانات کو سجانے کے ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔
آج بھی عسیر کے متعدد تاریخی دیہات میں یہ آرائشی نقوش موجود ہیں۔ قدرتی مضبوطی اور چمک کی بدولت ’المرو‘ وقت کے اثرات کا مقابلہ کرتے ہوئے تاریخی عمارتوں کی دیواروں پر اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔

راویتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قومی کوششوں کا مقصد تعمیراتی ورثے کا تحفظ، روایتی دستکاریوں کا احیا اور ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں جن کے تحت قومی ورثے کو محفوظ بنانے، اس کی قدیم حیثیت کو اجاگر کرنے اور ثقافتی و سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کا موثر ذریعہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عسیر کے منفرد طرزِ تعمیر کا یہ ورثہ آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔

 

شیئر: