امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے ویگیلوس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے محققین نے کہا ہے کہ ایسے افراد جو چھ ہفتوں تک مسسلسل روزانہ قریباً 80 منٹ کم سوتے رہے، اُن کا وزن بڑھ گیا اور وہ نسبتاً کم متحرک ہو گئے۔
’ای ٹی وی بھارت‘ کے مطابق مطالعے کی سربراہ اور کولمبیا کے شعبۂ طب اور انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی غذائیت میں غذائی طب کی پروفیسر میری پیئر سینٹ اونج کہتی ہیں کہ ’ہماری تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ مناسب نیند لینا وزن میں اضافے اور موٹاپے سے جڑی بیماریوں، جیسے دل کی بیماری اور ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لوگ عموماً اپنی بالغ زندگی کے دوران وزن بڑھاتے جاتے ہیں اور موٹاپا دل کی بیماری کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لیکن صرف صحت مند غذا اور زیادہ جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دے کر وزن کو قابو میں رکھنا ایک سادہ تصور ہے جسے برقرار رکھنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
ناکافی نیند اور موٹاپے کے درمیان تعلق کے بارے میں زیادہ تر معلومات اُن مختصر اور محدود تحقیقی مطالعوں سے حاصل ہوئی ہیں جن میں لوگوں کو شدید نیند کی کمی (عموماً صرف 4 گھنٹے سونا) کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے تحقیقی مطالعوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شدید نیند کی کمی بھوک میں تبدیلی اور زیادہ کھانے کا باعث بنتی ہے، جو وقت کے ساتھ وزن بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ ‘
تاہم، زیادہ تر لوگ چند دنوں سے زیادہ اس حد تک نیند کی کمی برداشت نہیں کر سکتے۔ پروفیسر میری پیئر سینٹ اونج کے مطابق، یہ تحقیقی مطالعے ہمیں صرف انتہائی حالات میں ہونے والی تبدیلیاں دکھاتے ہیں اور یہ نہیں بتاتے کہ ہلکی نیند کی کمی کا شکار افراد کیا واقعی وزن بڑھاتے ہیں جیسے بہت سے لوگ رات میں 5 یا 6 گھنٹے سوتے ہیں۔‘
چھ ہفتوں کی کم نیند = ایک پاؤنڈ اضافی وزن
ہلکی لیکن مسلسل نیند کی کمی کے اثرات جانچنے کے لیے، جو تقریباً 30 فیصد بالغ افراد اختیار کرتے ہیں، پروفیسر سینٹ اونج اور ان کی ٹیم نے 95 ایسے بالغ افراد کو تحقیق میں شامل کیا جو عموماً 7 سے 8 گھنٹے روزانہ سوتے تھے۔ شرکا کو ہدایت کی گئی کہ وہ چھ ہفتوں کے لیے اپنے سونے کے وقت میں 90 منٹ کی تاخیر کریں، جبکہ دوسرے چھ ہفتوں میں اپنی معمول کی نیند لیں۔

ہر مرحلے کے دوران کلائی پر پہنے جانے والے آلے کے ذریعے نیند اور جسمانی سرگرمی کی پیمائش کی گئی، ساتھ ہی وزن، کمر کی پیمائش، جسمانی ساخت اور بھوک سے متعلق ہارمونز کی سطح میں تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مطالعے کے پہلے مصنف اور کولمبیا کے شعبۂ طب میں غذائی طب کے اسسٹنٹ پروفیسر فارس زورایکات کہتے ہیں کہ ’معمولی نیند کی کمی کے نتیجے میں اگرچہ ایک پاؤنڈ وزن بڑھنا زیادہ نہیں لگتا، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایسا صرف چھ ہفتوں میں ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ تحقیق چوں کہ نیند کے اس پیٹرن کو ظاہر کرتی ہے جو جو زیادہ تر بالغ افراد مستقل طور پر اپناتے ہیں، اس لیے اگر اسے پورے سال پر پھیلایا جائے تو روزانہ ڈیڑھ گھنٹے سے کم نیند کی کمی بھی طبی لحاظ سے وزن میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔‘
نیند میں کمی کا شکار افراد کے غیر متحرک رہنے کے وقت میں بھی اوسطاً 17 منٹ روزانہ اضافہ دیکھا گیا، جبکہ مردوں اور سن یاس کے بعد خواتین میں یہ اضافہ تقریباً 30 منٹ روزانہ تھا۔
زورایکات کے مطابق، کم نیند کی وجہ سے اگرچہ وہ زیادہ دیر جاگ رہے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مناسب نیند لینے کے مقابلے میں زیادہ وقت غیر متحرک رہے۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ زیادہ غیر متحرک افراد میں دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نیند میں معمولی کمی وزن کیوں بڑھاتی ہے؟
اسی تحقیق کے ایک ذیلی مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ خواتین جن میں پہلے سے امراضِ قلب ہونے اور میٹابولک خطرات زیادہ تھے، انہوں نے جب چھ ہفتوں تک روزانہ تقریباً 80 منٹ کم نیند لی تو ان میں انسولین کے خلاف مزاحمت بڑھ گئی، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کا ایک اہم خطرہ ہے۔ یہ اثرات خاص طور پر سن یاس کے بعد کی خواتین میں زیادہ نمایاں تھے۔

ایک اور مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ایسے مرد و خواتین جن میں دل کے امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ تھا، ان کے دل میں نیند کی معمولی کمی کے بعد سوزش پیدا کرنے والے خلیات کی مقدار بڑھ گئی۔
سینٹ اونج کا کہنا ہے کہ ’ اس بات کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ نیند کی کمی وزن میں اضافے کا باعث کیسے بنتی ہے، لیکن ہمارے تمام تحقیقی مطالعے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ناکافی نیند موٹاپے سے جڑی بیماریوں، جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماری، کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ اب ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے مناسب نیند نہیں لے پاتے تو ان میں نیند کو بہتر بنانے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘












