Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسلسل 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے ’کینسر کا خطرہ‘، جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟

مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے (فوٹو: الارمی)
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ہی نشست میں آدھے گھنٹے سے زیادہ بیٹھنا کینسر کے باعث موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے دس برس کے دوران 90 ہزار سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ جاگتے ہوئے ایک ہی دورانیے میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا یا لیٹے رہنا کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔
تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 30 منٹ تک غیرمتحرک یا بیٹھے رہنے کے دوران اگر جسمانی سرگرمی انجام دی جائے تو یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنا صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے چاہے یہ چہل قدمی دفتر کے اندر ہی کیوں نہ کی جائے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فریڈرک ہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا خاص طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر نصف گھنٹے بعد مختصر چہل قدمی کی طرح کی سادہ سرگرمی کینسر کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صحت کے حوالے سے موجودہ رہنما اصول زیادہ تر درمیانی یا شدید ورزش پر زور دیتے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہلکی پھلکی حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئندہ طبی آزمائشیں ہمیں عمومی ہدایات سے آگے بڑھنے اور ہر فرد کے لیے مخصوص حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی تاکہ بیٹھنے کے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔‘
یہ نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں روزمرہ کی بنیاد پر طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ طویل وقت تک بیٹھے یا لیٹے رہنا پہلے ہی دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے، لیکن محققین کے مطابق اس بات پر کم توجہ دی گئی ہے کہ یہ غیر متحرک وقت کس انداز میں جمع ہوتا ہے اور آیا اس کا بھی صحت پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مفید سرگرمیوں میں آہستہ چلنا اور گھریلو کام کاج وغیرہ شامل ہیں۔

تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں (فوٹو:گیٹی)

تحقیقی ٹیم نے برطانیہ کے ایک بڑے طبی ڈیٹا پراجیکٹ کے 90 ہزار سے زائد شرکا کے ایسے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جو پہننے کے قابل آلات کے ذریعے جمع کیے گئے تھے، اور ان کا اوسطاً بارہ سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک غیرمتحرک رہنا کینسر کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر سے موت کا خطرہ دس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ روزانہ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے وقت کو کپڑے استری کرنے یا برتن دھونے کی طرح کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کرنے سے موت کا خطرہ بارہ فیصد کم ہوا۔
اسی طرح روزانہ 30 منٹ تک غیرمتحرک رہنے کی بجائے درمیانی درجے کی جسمانی سرگرمی جیسے معمول کی رفتار سے چہل قدمی کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوا۔ جبکہ روزانہ پانچ منٹ غیرمتحرک رہنے اور پھر پانچ منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی انجام دینے پر یہ خطرہ 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم اس تحقیق کی کچھ حدود بھی تھیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ مشاہداتی مطالعہ تھا اور اس میں شماریاتی تجزیہ کیا گیا، اس لیے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ماہرِ شماریات پروفیسر کیون مک کانوی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ہیں مگر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

شیئر: