Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روایتی ٹورازم سے تجرباتی سفر تک: پاکستان میں نوجوان نسل سیاحت کا مطلب کیسے بدل رہی ہے؟

’تین مسافر‘ پاکستان میں 20 سے زائد مقامات پر ہر موسم کے لحاظ سے اپنے ٹور ترتیب دیتا ہے۔
پاکستان میں سیاحت کی صنعت ایک دلچسپ دور سے گزر رہی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوکل ٹور آپریٹرز ہر سال لاکھوں افراد کو ملک کےمختلف حصوں خاص طور پر شمالی علاقہ جات کی سیر کرواتے ہیں۔
یہ کاروبار عام طور پر انسٹاگرام جیسے سوشل پلیٹ فارمز پر متحرک ہوتے ہیں۔ لیکن جینریشن زی نے جہاں سیاست سے لے کر مذہب ہر چیز کی ہیت دنیا بھر میں تبدیل کر دی ہے۔ تو ایک خاموش انقلاب سیاحت کے حوالے سے پاکستان کے دروازے پر بھی دستک دے رہا ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ آپ گلگت بلتستان کے کسی علاقے کے لیے کسی اچھے ٹور آپریٹر کو ڈھونڈیں تو آپ کو بتایا جائے کہ اپنی درخواست جمع کروا دیں۔ کمپنی چھان بین کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ آپ ان کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں یا نہیں؟
یا آپ کو پہلے سے بتا دیا جائے کہ اگر تو آپ نے محض جگہیں دیکھنے کے لیے جانا ہے تو آپ ہمارا انتخاب نہ کریں۔ ہاں اگر آپ زندگی کے خوبصورت ہونے کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو آئیے لیکن اس کے لیے بھی چھان بین کے بعد آپ کی درخواست قبول کی جائے گی۔
تو پھر جان لیجیے کہ ایسی ٹور کمپنیاں اب پاکستان میں بھی کام کر رہی ہیں جو سیر تفریح سے ماورا انسانی رشتوں کی گہرائی، نئی ثقافتوں کو سیکھنے اور آپ کی روح کو سفر کے حقیقی تجربے سے آشنا کروانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ایسی ہی ایک کمپنی کے ساتھ لاہور کی شفق رشید نے بھی سفر کیا۔ یہ ان کا خاتون ہونے کے ناتے ایک ہفتے کے لیے گلگت اکیلے جانے کا پہلا تجربہ تھا۔
شفق بتاتی ہیں کہ ’میں زندگی کے جھمیلوں سے تنگ تھی تو انسٹا پر ایک کمپنی کا صفحہ بہت بھرپور مناظر پیش کرتا تھا تو میں نے بھی جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اور کچھ ضروری چھان بین کے بعد مجھے بتایا گیا کہ فلاں تاریخ کو ایک قافلہ سفر پر روانہ ہو گا۔ میں متعلقہ جگہ پہنچ گئی۔ تو یہ سب نوجوان تھے میرے سے بھی کم عمر کے اور یہ سب بہت زیادہ توانائی کے ساتھ تھے۔ خیر جیسے ہی سفر کا آغاز ہوا تو جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ محض سفر نہیں ہے۔ اس قافلے کی ایک کیپٹن لڑکی تھی جو محض بیس سال کی ہو گی لیکن وہ بہت تربیت یافتہ تھی۔ انہوں نے کچھ ہی دیر کے بعد غیر محسوس طریقے سے اس بس میں سفر کرنے والے اجنبیوں کو ایک دوسرے سے ایسے مانوس کیا کہ جیسے سب ایک فیملی ہوں۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ اتنا مختلف کیوں ہے۔ میرا نہیں خیال اس بس میں کوئی ایک بھی لڑکا یا لڑکی ہو گی جو اپنے آپ کو دوسروں سے الگ یا اچھوت تصور کر رہا ہو گا۔ وہاں پہنچنے کے بعد جس انداز سے سرگرمیاں کی گئیں میرے خیال میں یہ میری زندگی کا سب سے حسین سفر بن گیا۔ ہر چیز تجرباتی تھی۔ مجھے اچھے دوست بھی ملے اور ان علاقوں کو سمجھنے اور جذب کرنے کا بھی موقع ملا۔‘

پاکستان میں سیاحت کا کاروبار بدلنے والی کمپنی:

یہ کہانی شروع ہوتی ہے کورونا کے دنوں سے، لیکن تھوڑا اس سے بھی پہلے جب لاہور کے تین دوستوں نے ترکی میں بیٹھ کر پاکستان میں کچھ ایسا کرنے کا فیصلہ کیا جو اس سے پہلے نہیں کیا گیا تھا۔

’تین مسافر‘ نامی اس کمپنی کے تینوں شراکت دار اصل میں خود سافٹ وئیر انجینئر ہیں۔ (فوٹو: اردو نیوز)

علی حسن جو یہ ٹور کمپنی چلاتے ہیں انہوں نے کہانی یوں شروع  کی۔ ’ہم ترکی میں تھے جہاں دنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے تھے ہم نے محسوس کیا کہ دنیا تو سفر اور سیاحت کے نئے مطلب اخذ کر چکی ہے۔ اور سیاحت تو روح کو سرشار کرنے کا دروزاہ ہے۔ ہمارے ملک میں ایسی سیاحت کیوں نہیں؟ ہم تین دوست بھی اس وقت حالت سفر میں تھے۔ وہیں سے ہم نے فیصلہ کیا پھر ’تین مسافر‘ کی بنیاد رکھی۔‘
’تین مسافر‘ نامی اس کمپنی کے تینوں شراکت دار اصل میں خود سافٹ وئیر انجینئر ہیں اور یہ ان کا پہلا سٹارٹ اپ ہے جو سیاحت سے شروع ہوا۔ اسلام آباد کے اایک سرکاری انکیوبیشن سینٹر میں جنم لینے والی ’تین مسافر‘ کمپنی نے پاکستان میں سیاحت کے تصور کو کیسے بدلا خود علی حسن بتاتے ہیں کہ ’ہم نے جب یہ محسوس کیا کہ پاکستان میں تجرباتی سفر کا نام و نشان نہیں تو یہیں سے ہم نے شروع کیا۔ لیکن شروع کرتے ہی کورونا آ گیا۔ لیکن ہم نے اپنا ارتقا جاری رکھا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گئے، ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈا جو ہمارے مشن کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ انہیں تربیت دی۔ کہ ایک انتہائی محفوظ سیاحتی سروس جو بھر پور تجرباتی بھی ہے اور اس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ہو گی اس کے لیے بین الاقوامی طریقہ کار کیا ہیں۔ ہماری کمپنی کا ایک ایک فرد اس حوالے سے تربیت یافتہ ہے۔‘
اس کمپنی کے ساتھ سفر کرنا ہر ایک کے لیے اتنا مشکل کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علی حسن کا کہنا تھا کہ ’اس کی وجہ وہ اقدار ہیں جو اس کمپنی کی بنیاد میں شامل ہیں۔ تحفظ کا بے پایاں احساس اور تجرباتی سیاحت کا حصہ بننے کا ارادہ۔ اس لیے اب کسی نے بھی اگر درخواست بھی دینی ہے تو اس کو ہمارے ساتھ پہلے سے سفر کر لینے والی ایک خاتون مسافر کا ریفرنس لانا ہو گا۔ اس کے بعد بھی اس کی چھان بین اور انٹرویو کیا جاتا ہے اور پھر جا کر درخواست قبول ہوتی ہے۔ گزشتہ برس ہمیں دس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے تقریبا دو ہزار کو قبول کیا گیا۔ یہ ایک نفع بخش ماڈل نہیں ہے اس لیے کوئی بھی انویسٹر جب آتا ہے تو اس ماڈل سے وہ پیسہ کمانے کی تدبیر کے خلاف سمجھتا ہے۔‘
’تین مسافر‘ پاکستان میں 20 سے زائد مقامات پر ہر موسم کے لحاظ سے اپنے ٹور ترتیب دیتا ہے۔ اسی طرح 11 ممالک میں بھی ٹوررز کروائے جاتے ہیں۔ علی حسن کا کہنا ہے کہ اس مختلف سوچ اور لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور قدرت کو گہرائی سے دیکھنے کے تجربات کے باعث اب لوگ اسی طرح کے ٹوررز کرنا چاہا رہے اور روایتی ٹورز نوجوان نسل کو اب بالکل بھی اپنی طرف نہیں کھینچ پا رہے۔

علی حسن کا کہنا ہے کہ اس مختلف سوچ اور نئے تجربات کے باعث اب لوگ اسی طرح کے ٹوررز کرنا چاہا رہے. (فوٹو: اردو نیوز)

’ہمارے بعد اس وقت کم از کم دس ایسی ٹورر کمپنیاں کھل گئی ہیں جو اسی طرح کے تجرباتی ٹوررز کروا رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ہمارے تربیت یافتہ سٹاف کے لوگ ہی تھے جنہوں نے اپنا الگ سے  کاروبار کھول لیا۔ مستقبل میں روایتی ٹوررازم دم توڑ جائے گا۔ اب لوگوں کو اس طرف آنا ہو گا۔‘
’ہماری خواہش ہے کہ اس کو ایک بین الاقوامی سطح کا پلیٹ فارم بنائیں ابھی بھی ہمارے زیادہ تر مسافر بیرون ملک سے ہی آتے ہیں جن کو ہم اپنا ملک نئے زاویے سے دکھا رہے۔‘

تجرباتی ٹوررازم کے مسائل کیا ہیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علی حسن کا کہنا تھا کہ ’اس میں کئی طرح کی چیزیں ہیں ایک وہ جو ہمارے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ اور ایک وہ جن پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا۔ جو چیزیں ہمارے کنٹرول میں سے اہل مسافروں کا چناؤ اور تربیت یافتہ سٹاف کے ساتھ ان کے سفر کے عمل کو حسین بنانا اور انتہائی محفوظ اور آرام دہ ماحول ترتیب دینا۔ جب ہم منزل پر پہنچتے ہیں تو مسافروں کے مزاج کے مطابق ایونٹ ترتیب دیے جاتے ہیں جیسے کوئی رات کو تاروں بھرے آسمان کو دیکھنا چاہتا ہے تو کوئی ہائیکنگ تو کوئی مراقبہ یا پھر یوگا۔۔ اسی طرح سے مختلف چیزیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ یہ سب ہمارے کنٹرول میں ہوتا ہے۔‘
’جو ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے وہ جن علاقوں میں جاتے ہیں وہاں کے ماحول کو تبدیل کرنا اور نہ ہی ہم کرنا چاہیں گے۔ بلکہ ہماری کوشش ہوتی ہے مسافر کپڑے بھی اطوار بھی انہی علاقوں کے ماحول کے مطابق رکھیں۔ ایک سب سے بڑا مسئلہ جو ہمیں آتا ہے وہ خواتین کے لیے مخصوص واش رومز کا نہ ہونا ہے۔ اور اس کے لیے بھی ہم اپنے مسافروں کو مکمل طور پر گائیڈ کرتے ہیں۔ اور ان رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ علاقائی ترقی نہ ہونے کے سبب بھی کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں لیکن پچھلے چھ سالوں میں مقامی ہوٹلز اور ریستورانوں اور دیگر سروسز کی کوالٹی کو مستقل گاہک دے کر کسی حد تک بہتر کیا گیا ہے۔ لیکن ابھی بھی اس پر کافی کام ہونا ابھی باقی ہے۔
خیال رہے کہ تجرباتی سیاحت کا ٹرینڈ دنیا بھر میں اپنے عروج پر ہے۔ اور یہ روایتی ٹوورازم سے مہنگا بھی ہے۔ اور اب پاکستان میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور بڑی تعداد میں نوجوان نسل اس کی طرف جھکاو رکھتی ہے۔

شیئر: