Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کاکروچز کی عدالت‘، انڈیا میں جین زی کے وائرل میمز کیسے احتجاج کا انداز بدل رہے ہیں؟

انڈیا میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج میں نوجوانوں نے روایتی نعروں کے بجائے طنز و مزاح کا ایسا انداز اپنایا ہے جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے۔
انڈین جنریشن زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے ہونے والے احتجاج میں نوجوانوں نے ایسے پلے کارڈز اٹھائے جن میں حکومت، تعلیمی نظام اور امتحانی بے ضابطگیوں پر انٹرنیٹ میمز، بالی وڈ، کرکٹ اور پاپ کلچر کے ذریعے طنز کیا گیا۔
احتجاج میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے پلے کارڈز میں سے ایک ’میک اِن انڈیا، ناٹ لیک اِن انڈیا‘ ہے، جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی ’میک اِن انڈیا‘ مہم کو امتحانی پرچوں کے لیک سے جوڑ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح ایک اور پلے کارڈ پر آئی پی ایل کو ’انڈین پیپر لیک‘ لکھا گیا، جس میں انڈین پریمیئر لیگ کے مخفف کو ’انڈین پیپر لیک‘ قرار دے کر صورت حال پر طنز کیا گیا۔
احتجاج میں ریلیشن شپ میمز بھی نمایاں رہے۔ 

بعض نوجوانوں نے ایسے پلے کارڈز اٹھائے جن پر ’ریلیشن شپ سٹیٹس: ایجوکیشن سسٹم نے دھوکہ دیا‘ اور ’میرا ایکس، این ٹی اے سے کم جھوٹ بولتا تھا‘ جیسے جملے درج تھے۔
ان پلے کارڈز میں قومی امتحانی ادارے ’این ٹی اے‘ پر طنز کیا گیا۔
ایک اور پوسٹر میں بالی وڈ فلم سے بنائی گئی میم کو بھی بدل کر شیئر کیا گیا جس میں لکھا تھا ’جلدی استعفی دے، کل صبح پنویل نکلنا ہے‘۔

بالی وڈ بھی احتجاج کا حصہ بنا۔ فلم ’گینگز آف واسع پور‘ کے مشہور مکالمے ’سب کا بدلہ لے گا تیرا فیصل‘ کو احتجاجی بینرز پر لکھ کر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
احتجاج صرف پلے کارڈز تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض مظاہرین کوکروچ کے ماسک پہن کر شریک ہوئے، کچھ نے ڈائپر پر اپنے مطالبات تحریر کیے، جبکہ کئی مقامات پر کووڈ-19 کے دوران برتن بجانے کی مہم کو بھی طنزیہ انداز میں دہرایا گیا۔
ان منفرد اور مزاحیہ پلے کارڈز کی تصاویر اور ویڈیوز ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ 

 

صارفین کا کہنا ہے کہ جنریشن زی نے احتجاج کو میمز اور انٹرنیٹ کلچر کے ذریعے نئی شناخت دے دی ہے، جہاں سخت سیاسی پیغامات بھی مزاحیہ انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

شیئر: