اسلام آباد اور راولپنڈی کے باخبر اور درویش طبع لوگ ان دنوں پردہ نشین ہوئے بیٹھے ہیں۔ بھلے وقتوں میں نشست ہو جایا کرتی تھی۔ جی کا حال سُنا لیا کرتے تھے اور بدلے میں گیان پاتے تھے۔
حالات کچھ ایسے بدلے کہ یہ معدودے چند بھی خامشی اوڑھے روایتی مجالس سے دُور چل دیے۔ بھلا ہو حالیہ دنوں کی اُس شبھ گھڑی کا کہ جس کے کارن اچانک شہرِ اقتدار کے نسبتاً مضافاتی علاقے میں اس سڑک چھاپ کی ایک اتفاقیہ ملاقات ہو گئی۔
مزید پڑھیں
-
دستیاب قیادت یا علیمہ خان، اصل رہنما کون؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 901120
-
قصور کی پِنکی اور نیو میکسیکو کا والٹر وائٹ، اجمل جامی کا کالمNode ID: 904216
-
سلہٹ میں کرکٹ کا جنازہ کیسے نکلا؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 904515
ہم تھے کہ سوالات سے بھرے پڑے اور وہ تھے کہ کچھ بولنے کو تیار تک نہ تھے۔ چائے کی نشست چلی، چلتی گئی۔ رات گہری ہوئی تو پوچھا کہ قبلہ، یہ کیا ہو رہا ہے؟ سُننے میں آرہا ہے کہ سرکار کا زوال شروع ہو رہا ہے؟
ابتدا شاید کابینہ میں ردوبدل سے ہوگی؟ کچھ تو رہنمائی فرمائیں کہ سب اچانک کیسے اور کیوں کر؟ حضرت چونکہ صاحبِ ذوق بھی ہیں لہٰذا تورنت مہاراشٹر انڈیا کے ایک نوجوان شاعر زبیر علی تابش کا ایک شعر دے مارا۔
فرمایا:
تمہارا صرف ہواؤں پہ شک گیا ہوگا
چراغ خود بھی تو جل جل کے تھک گیا ہوگا
ہم مزید اُلجھ گئے۔ یعنی کچھ نہ کچھ تو ہلچل ہے۔ ویسے بھی پنڈی اسلام آباد کا مزاج ہی ایسا ہے کہ مقبول سے مقبول سرکار بھی برسرِ اقتدار ہو تو ڈھائی تین برس بعد یہی کھچڑی پک رہی ہوتی ہے۔
اپوزیشن کے مقتدرہ سے رابطوں اور ساز باز کی خبریں گردش کرتی ہیں، کم سے کم کابینہ میں تبدیلیاں تو یعنی معمول کی نشریات سمجھی جاتی ہے۔ جبھی تو مزید استفسار پر معلوم ہوا کہ نہیں صاحب!
اس بار اشاریے اور اشارے کچھ اور ہیں۔ قدرے وَکھرے ہیں۔ یعنی اپوزیشن کی مقتدرہ کے ساتھ پریم کہانی دُور اَست۔اڈیالہ کے مکین کی فوری واپسی کا بھی کوئی امکان نہیں۔انہیں اُتار کر کسے لائیں گے؟ ایسا کوئی بندوبست فی الحال تیار نہیں۔
ماضی قریب میں البتہ ایسا ضرور ہوا، مقبول غیر مقبول ہو رہے تھے تو اپوزیشن کی مقتدرہ کے ساتھ پینگیں چڑھ چُکیں تھیں۔ لہٰذا پرانے فارمولے کے تحت تبدیلی برپا ہوئی۔

اب ایسی ہوائیں نہیں چل رہیں۔ ہاں ڈے ٹو ڈے معاملات اور کسی بھی ممکنہ نئے نظام کے لیے اپوزیشن کو رام رکھنے کو میل ملاقاتیں ایک سکیم کا حصہ ہیں۔
تو پھر کچھ جید تجزیہ نگار اور استاد لکھاری یعنی جناب سہیل وڑائچ اور استاد نصرت جاوید کیا لکھ رہے ہیں؟ کاہے کی چتاونی دے رہے ہیں؟
ظاہر ہے یہ مستند صحافی بنا مستند معلومات ایسے تبصرے تو کرنے سے رہے، انہیں بھلا یوٹیوب تھمب نیل کے ذریعے مصالحہ فروشی کی عِلت کہاں؟
یہ تو جب بھی لکھیں گے تاریخ کا حصہ رہیں گے۔ ان کی پیش گوئیاں تو ایک بار نہیں کئی بار دُرست ثابت ہو چکیں۔ تب کی سرکاریں بھی تردید ہی کیا کرتی تھیں جیسے اب ہو رہی ہے۔ اور پھر کیا ہوا؟ کمپنی نہیں چلی۔
فرمایا، ان دونوں جید لکھاریوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ ملامتی طبع ہیں، اہلِ اقتدار کی طاقت کو چیلنج کرنے کے بجائے حرف کی چوٹ سے تاریخ میں رقم ہونا پسند کرتے ہیں، یہی ایک دانش مند لکھاری کی خوبی ہوتی ہے۔
یہی انہیں ہمیشہ ممتاز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرنٹ کا دور قریباً ختم ہو چکا لیکن ایسے لکھاری اپنی لکھت کے کارن سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک مباحثوں کی زینت ہوتے ہیں۔

ان کا کانٹینٹ ہی کئی دن کئی یوٹیوبرز کی چھابڑی سجائے رکھتا ہے۔ یہ دستیاب اشاریے اور فیصلہ سازوں کی بند کمروں میں بیٹھ کر پریشانی کو بھانپ لیتے ہیں۔ جبھی تو چُبھتے ہیں!
ہمارا سوال البتہ جُوں کا تُوں تھا، رات ڈھلتی گئی تو بات سمجھ آنا شروع ہوئی۔ کس حد تک؟ یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
بدھ کی شب فیصل واؤڈا ہمارے شو میں تھے، ان کے مشہور ہوئے بیانات اور تنقید پر مبنی سوالات اُن کے سامنے رکھے تاکہ مزید کھنگالا جا سکے کہ موصوف کہاں سے آرہے ہیں اور کسے کیا وارننگ دے رہے ہیں۔ اس بیچ وہ ایک ایسی بات فرما گئے جو انتہائی معنی خیز تھی۔
کہنے لگے کہ کیا ہم نے ہمیشہ فیملی لمیٹڈ سیاست ہی دیکھنی ہے؟ بچپن سے یہی چہرے دیکھ رہے ہیں، کیا بیرسٹر عقیل، علی پرویز، بشریٰ بٹ اور دو چار دیگر نوجوان پارلیمنٹیرینز باصلاحیت نہیں؟
’کیا انہیں بہتر انگریزی کی سمجھ بُوجھ نہیں؟ کیا یہ میرے رشتے دار ہیں؟ جو میں ان کی وکالت کر رہا ہوں؟‘ سمجھ آرہی ہے کہ شاید نئے چہروں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ عوام پُرانے چہرے پُرانی باتوں سے اُکتا گئے ہیں۔












