Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرسٹوفر نولین کی فلم ’دی اوڈیسی‘ سوشل میڈیا پر لیک، یونیورسل سٹوڈیو کا فوری ایکشن

قریباً 2 گھنٹے 53 منٹ دورانیے کی پوری فلم اعلیٰ معیار میں ایکس پر اپ لوڈ کر دی گئی تھی (فائل فوٹو: یونیورسل پکچرز)
کرسٹوفر نولین کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ سنیما گھروں میں کامیاب نمائش کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مکمل طور پر لیک ہو گئی، جس کے بعد فلم بنانے والے ادارے یونیورسل پکچرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ویڈیوز ہٹوا دیں۔
انٹرٹینمنٹ ویب سائٹ آئی جی این کے مطابق قریباً 2 گھنٹے 53 منٹ دورانیے کی پوری فلم ایچ ڈی کوالٹی میں ایکس پر اپ لوڈ کر دی گئی تھی، جہاں ہزاروں افراد نے اسے سنیما جانے کے بجائے آن لائن دیکھنا شروع کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق فلم کی بیشتر ویڈیوز بعد میں ہٹا دی گئیں، جبکہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی پوسٹ کو بھی پلیٹ فارم سے حذف کر دیا گیا۔
امریکی جریدے ویریائٹی کے مطابق فلم کو ہٹائے جانے سے پہلے لیک ہونے والی ایک ویڈیو کو 21 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد افراد فلم کے بڑے حصے دیکھنے میں کامیاب رہے۔
فلم لیک ہونے کے بعد ایکس پر صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل بھی سامنے آیا۔
ایکس پر ایک صارف کلب کرک لوور نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’میں اپنے آئی فون پر ایکس کی چھوٹی سی ونڈو میں ’دی اوڈیسی‘ دیکھ رہا ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے کرسٹوفر نولین چاہتے تھے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’جیسے ہی میں نے فلم دیکھنا شروع کی، ویڈیو ہٹا دی گئی۔‘

 
لیک کے بعد یونیورسل پکچرز نے ویرائٹی کو جاری بیان میں کہا کہ ’فلم کی غیر مجاز اشاعت کا علم ہوتے ہی فوری طور پر اسے ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔‘

’ہم کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے مواد اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے لیے تمام مناسب قانونی اقدامات کریں گے۔‘

اگرچہ فلم سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے باکس آفس پر اس کی کامیابی متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’دی اوڈیسی‘ نے ریلیز کے پہلے ہی ہفتے دنیا بھر سے 264.1 ملین ڈالر (قریباً 75 ارب پاکستانی روپے) کا بزنس کیا، جو کرسٹوفر نولین کے کیریئر کی اب تک کی سب سے بڑی عالمی اوپننگ قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دوسرے ہفتے بھی فلم کی کمائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایکس کے مالک ایلون مسک نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ گروک 2026 کے اختتام تک ’دی اوڈیسی‘ کا اپنا ورژن تیار کر سکے گا، جو ان کے بقول ’ہومر کے اصل فن اور تاریخی حقائق کے زیادہ قریب ہوگا۔‘
کرسٹوفر نولین نے اس فلم کی تیاری کے دوران خصوصی طور پر اسے مکمل طور پر آئی میکس کیمروں سے فلمایا تھا تاکہ ناظرین کو بڑی سکرین پر منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ اسی وجہ سے فلم کا موبائل فونز اور سوشل میڈیا پر لیک ہونا مداحوں اور فلم سازوں کے لیے مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم آئی میکس کے چیف ایگزیکٹیو رچرڈ گیلفونڈ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 70 ملی میٹر آئی میکس پروجیکٹرز کی تعداد بڑھانا عملی طور پر ممکن نہیں، حالانکہ فلم کے شائقین اسے اسی فارمیٹ میں دیکھنے کے لیے مختلف شہروں کا سفر کر رہے ہیں۔
 

شیئر: