Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زوال کے اندھیروں میں بھٹکنے کے بعد انڈین ہاکی ایک مرتبہ پھر گولڈ میڈل کی دوڑ میں واپس

جنوبی انڈیا کے شہر بنگلورو کے سخت گرم اور حبس زدہ موسم میں انڈین ہاکی ٹیم کے کھلاڑی شدید پسینے میں شرابور ڈربلنگ اور دوڑ کی مشقوں میں مصروف ہیں۔ مردوں کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کریگ فلٹن کی گہری اور باریک بین نگاہیں کھلاڑیوں کی ہر حرکت پر جمی ہوئی ہیں۔
فیلڈ ہاکی کی دنیا میں کبھی بلا شرکتِ غیرے بادشاہت کرنے والی اور ریکارڈ آٹھ اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والی انڈین ہاکی ٹیم طویل عرصے تک گمنامی اور زوال کے اندھیروں میں بھٹکنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے سنہری دور کی واپسی کے لیے پرعزم ہے۔ حالیہ دنوں میں مسلسل ملنے والی کامیابیوں نے ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کوچ کریگ فلٹن انتہائی سخت گیر استاد مانے جاتے ہیں اور وہ اس وقت بنگلورو کے کیمپ میں مردوں اور خواتین، دونوں ٹیموں کو سخت ترین مشقوں سے گزار رہے ہیں۔
عالمی کپ سے 2028 کے اولمپکس تک
کریگ فلٹن کی زیر نگرانی انڈین مینز ٹیم کا پہلا بڑا ہدف آئندہ ماہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں ہونے والا عالمی کپ جیتنا ہے۔ انڈیا نے آخری مرتبہ یہ ٹرافی 1975 میں اپنے نام کی تھی۔
اس کے بعد ٹیم کو جاپان کا رخ کرنا ہے جہاں اسے اپنے ایشین گیمز کے گولڈ میڈل کا دفاع کرنا ہے جس کی کامیابی 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفکیشن کی ضمانت بنے گی۔
دوسری جانب ہالینڈ کے سابق کھلاڑی سیورڈ مارینے کی کوچنگ میں انڈیا کی خواتین ہاکی ٹیم بھی گزشتہ ایشین گیمز میں حاصل کردہ کانسی کے تمغے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

انڈین مینز ٹیم کا پہلا بڑا ہدف آئندہ ماہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں ہونے والا عالمی کپ جیتنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تمغوں کا تسلسل اور فتح کی تڑپ
اگرچہ ہاکی کے ان کھلاڑیوں کو ملک کے کرکٹرز جیسی بے پناہ مقبولیت حاصل نہیں لیکن انڈین ہاکی کی تاریخ شاندار رہی ہے۔ مینز ٹیم نے 1928 سے 1956 کے درمیان مسلسل چھ اولمپک گولڈ میڈل جیتے جبکہ 1964 اور 1980 میں بھی سونے کے تمغے حاصل کیے۔
ٹوکیو اور پیرس اولمپکس میں مسلسل دو بار کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد اب انڈین ٹیم کا ہدف لاس اینجلس میں قریباً آدھی صدی کے خشک سالی کے دور کو ختم کر کے طلائی تمغہ جیتنا ہے۔
30 سالہ کپتان ہرمنپریت سنگھ کا کہنا ہے کہ پیرس اولمپکس کی کامیابی کے بعد ٹیم کی بنیادیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر اولمپک پوڈیم کی سب سے اوپر والی سیڑھی پر قدم رکھ سکتی ہے۔
انہوں نے ایک گفتگو میں بتایا ’دوسرا مسلسل اولمپک برونز میڈل ہمارے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم درست سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہم نے کانسی کے تمغے جیتے ہیں لیکن ہمارا یقین ہے کہ ہم اس سے بہتر کر سکتے ہیں۔ عالمی کپ اور اولمپکس میں گولڈ میڈل کا راستہ آسان نہیں لیکن اس وقت ہماری ٹیم بہترین فارم میں ہے۔‘
توقعات کا بھاری بوجھ
کوچ کریگ فلٹن کے مطابق جس ملک کی ہاکی کی تاریخ اتنی شاندار رہی ہو، وہاں عوام کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں جو بعض اوقات ٹیم کے لیے بوجھ بن جاتی ہیں۔ اولمپک تاریخ میں انڈیا کے بعد جرمنی چار گولڈ میڈلز کے ساتھ دوسرا کامیاب ترین ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جب بھی انڈین ٹیم میدان میں اترتی ہے تو اس سے فتح اور طلائی تمغوں کی روایات برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے لیکن اعلیٰ ترین سطح پر یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس وقت عالمی ہاکی میں چھ یا سات ایسی بہترین ٹیمیں ہیں جو کسی بھی دن ایک دوسرے کو ہرا سکتی ہیں۔‘
انڈیا کی حالیہ پیش رفت میں کپتان ہرمنپریت سنگھ (جو جدید ہاکی کے خطرناک ترین پینلٹی کارنر سپیشلسٹ مانے جاتے ہیں) اور مڈفیلڈر ہاردک سنگھ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔

اولمپک تاریخ میں انڈیا کے بعد جرمنی چار گولڈ میڈلز کے ساتھ دوسرا کامیاب ترین ملک ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لندن میں ہونے والی ایف آئی ایچ پرو لیگ میں روایتی حریف پاکستان کے خلاف دو فتوحات جن میں سے ایک 7-1 کی یک طرفہ فتح تھی اور موجودہ عالمی چیمپئن جرمنی کے علاوہ اولمپک چیمپئن نیدرلینڈز کو ہرانے سے ٹیم کا اعتماد آسمان چھو رہا ہے۔
27  سالہ ہاردک سنگھ کا کہنا ہے ’ہر قوم کا ایک دور ہوتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ گزشتہ تین چار برسوں سے انڈیا کا وقت آ چکا ہے۔ ہم نے بڑے مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور ہمارا سنہری دور واپس آ رہا ہے۔ یہ حالیہ برسوں کی بہترین انڈین ٹیم ہے جس میں عالمی چیمپئن بننے کی بھوک موجود ہے۔‘
کھیل کے میدان سے سفارتی تعلقات تک
لندن میں پاکستان کے خلاف میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ یہ منظر رواں برس ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران دونوں ممالک کے کرکٹرز کے رویے سے بالکل مختلف تھا۔
پچھلے برس انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد نئی دہلی نے اس کا الزام پاکستان کی حمایت یافتہ شدت پسندوں پر لگایا تھا جبکہ اسلام آباد نے اس کی سخت تردید کی تھی۔
اس کے بعد سے کرکٹ کے میدان میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی۔

ہاردیک سنگھ نے کہا ہم نے بڑے مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور ہمارا سنہری دور واپس آ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم کپتان ہرمنپریت سنگھ نے ہاکی کے میدان میں اس گرمجوشی کو کوئی سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا ’یہ کوئی طے شدہ بات نہیں تھی۔ ہم جب بھی ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں، ہمیشہ ہاتھ ملاتے ہیں۔ عزت کا رشتہ دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ میرے لیے میچ کا نتیجہ زیادہ اہم تھا اور ہماری توجہ اسی پر مرکوز تھی۔‘
1980 کی دہائی تک انڈیا میں ہاکی کے میدان تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے لیکن کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے آغاز نے ملک کا کھیل کا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔
خواتین ٹیم کی کپتان سلیمہ ٹیٹے کو امید ہے کہ حالیہ کامیابیوں سے ہاکی اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر لے گی۔
ان کا کہنا تھا ’ہر کوئی کرکٹرز کو جانتا ہے لیکن ہاکی کو بھی آہستہ آہستہ اس کا حق مل رہا ہے جس سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے۔ دونوں کھیلوں کا کوئی مقابلہ نہیں، لیکن ہم اپنی کارکردگی سے الگ پہچان بنانا چاہتے ہیں تاکہ ایک انڈین قومی کھلاڑی کے طور پر فخر اور آزادی کے ساتھ کھیل سکیں۔‘

شیئر: