پنجاب کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال، اردو نیوز کی ٹیم نے متاثرہ علاقوں میں کیا دیکھا؟
پنجاب کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال، اردو نیوز کی ٹیم نے متاثرہ علاقوں میں کیا دیکھا؟
جمعہ 31 جولائی 2026 16:30
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے۔ حالیہ مون سون بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو اس طرح متاثر کیا کہ کئی آبادیاں اب تک پانی میں گھری ہیں۔
جمعرات کو اردو نیوز کی ٹیم جب متاثرہ علاقوں میں پہنچی تو بعض مقامات تک رسائی کے لیے کشتی کا سہارا لینا پڑا۔ ریلوے پھاٹک سے آگے جانے کا واحد ذریعہ کشتیاں تھیں، جن کے ذریعے مقامی لوگ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کر رہے تھے، جبکہ فلاحی ادارے انہی کشتیوں پر خوراک، پینے کا پانی اور دیگر امدادی سامان متاثرہ خاندانوں تک پہنچا رہے تھے۔
’بچے تالیاں بجاتے ہیں‘
پانی میں گھرے محلوں کا منظر غیر معمولی تھا۔ کئی لوگوں نے گھر کی چھتوں پر عارضی پناہ لے رکھی تھی۔ دوپہر کے وقت متعدد افراد پانی میں کھڑے ہو کر دور سے آنے والی کشتیوں کا انتظار کرتے دکھائی دیتے تھے تاکہ اگر کوئی امدادی کشتی قریب سے گزرے تو انہیں کھانا یا پانی مل سکے۔ کئی گھروں کی چھتوں پر بچے مسلسل تالیاں بجا کر کشتیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے خاندان تک بھی امداد پہنچ سکے۔
فیروزوالا لاہور کے شمال مغرب میں واقع وہ تحصیل ہے جو لاہور شیخوپورہ روڈ پر واقع ہونے کے ساتھ کالا شاہ کاکو، مریدکے اور شاہدرہ جیسے علاقوں سے متصل ہے۔ لاہور تا فیصل آباد ریلوے لائن بھی اسی علاقے سے گزرتی ہے، جبکہ متعدد برساتی نالے بھی یہاں سے گزرتے ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ طغیانی کی صورت میں خاصا حساس تصور کیا جاتا ہے۔
گزشتہ چند روز کی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں یہاں شدید اربن فلڈنگ ہوئی۔ پٹھان کالونی میں نالہ بھیڑ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے بعد پانی تیزی سے رہائشی علاقوں میں داخل ہوا اور کئی مقامات پر پانچ سے دس فٹ تک پانی جمع ہوگیا۔ اسی علاقے میں ایک ہی خاندان کے تین بچے بارش کے پانی میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
نالہ ڈیک اور نالہ بھیڑ میں طغیانی کے بعد رانا ٹاؤن، رچنا ٹاؤن، پٹھان کالونی، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نشیبی علاقے، مراد پور اور جامکے چیمہ زیرِ آب آگئے، جبکہ نورپور اور رحیم کالونی بھی متاثرہ آبادیوں میں شامل ہیں۔ پانی کی سطح میں مزید دو سے تین فٹ اضافے کے باعث پٹھان کالونی کا لاہور کی جی ٹی روڈ سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا، جس سے سینکڑوں خاندان کئی روز تک محصور رہے۔
سیلاب کے باعث بنیادی مواصلاتی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ قلعہ ستار شاہ کے قریب سیلابی ریلے سے ریلوے پل متاثر ہونے کے بعد لاہور سے فیصل آباد ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل کرنا پڑی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فیروزوالا، مریدکے اور کالا شاہ کاکو کی تحصیلوں میں حالیہ سیلاب سے 94 سے زائد دیہات متاثر ہوئے، جبکہ لاہور گوجرانوالہ جی ٹی روڈ کے ساتھ وسیع رقبہ زیرِ آب آگیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ بستیوں میں پٹھان کالونی، رچنا ٹاؤن، رانا ٹاؤن، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نواحی علاقے مراد پور اور جامکے چیمہ شامل ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ایڈوائزریز میں فیروزوالا تحصیل کے فیض پور کھو، دھامیک، ڈوکہ، برج عطاری اور کوٹ عبدالمالک کو مستقبل میں بھی سیلابی خطرات سے دوچار علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔
امدادی سرگرمیاں
اس وقت فیروزوالا میں امدادی سرگرمیوں میں متعدد فلاحی تنظیمیں متحرک ہیں۔
الخدمت فاؤنڈیشن سینٹرل پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری زبیر احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ ابتدا ہی سے این ڈی ایم اے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’چند دن پہلے شدید بارشوں سے ڈیک نالے کا حفاظتی بند ٹوٹا۔ یہ نالہ کنگرا موڑ سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کی گنجائش تقریباً 6 ہزار کیوسک ہے، لیکن راستے میں آبادیاں اور مختلف رکاوٹیں ہونے کی وجہ سے فیروزوالا پہنچتے پہنچتے اس کی گنجائش کم ہو کر تقریباً ایک ہزار سے 15 سو کیوسک رہ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ یہاں تقریباً 10 ہزار کیوسک کا ریلا آیا، جبکہ چھوٹے نالے بھی اسی میں شامل ہوگئے، جس کا دباؤ حفاظتی بند برداشت نہ کر سکا۔‘
انہوں نے بتایا کہ نارنگ منڈی سے فیروزوالا اور کالا شاہ کاکو تک تقریباً 150 سے زائد دیہات زیرِ آب آئے ہیں اور ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ زبیر احمد کے مطابق، ’ہم نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ مقامی رضاکاروں، کشتیوں اور تقریباً 200 رضاکاروں کی مدد سے کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ روزانہ تین وقت کا کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں، لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اکثر لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ موبائل ہیلتھ یونٹ بھی علاقے میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا، ’اب تک دو بچوں کی کرنٹ لگنے اور تین بچوں کی ڈوبنے سے ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن نے اب تک تقریباً 400 افراد کو ریسکیو کیا ہے اور روزانہ ایک ہزار سے 1500 افراد تک کھانا پہنچایا جا رہا ہے۔‘
’پانی جمع ہوگیا، ہم کہاں جائیں‘
متاثرین کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں حکومتی امداد ان تک نہیں پہنچ سکی۔ بشیر ٹاؤن کے رہائشی محمد اعظم نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’آج تک ہمارے پاس کوئی حکومتی ٹیم نہیں پہنچی۔ اب تک صرف این جی اوز والے آ رہے ہیں۔ یہاں پانچ سے ساڑھے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ کسی نے پانی نہیں نکالا اور نہ ہی کسی نے یہ پوچھا کہ ہم ڈوب رہے ہیں یا بچ گئے ہیں۔ چار دن ہوگئے ہیں، اسی صورتحال میں گزر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق رات کو اچانک پانی آیا اور صبح تک تقریباً پانچ فٹ تک جمع ہوگیا۔ ’کبھی پانی کچھ کم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔‘
اسی علاقے کی رہائشی نسرین بی بی نے بتایا کہ شدید بارشوں کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل کر رہ گئی۔ انہوں نے کہا، ’تقریباً دس دنوں سے شدید بارشیں ہو رہی تھیں۔ ایک ہفتہ ہوگیا جب سے پانی آیا ہے اور گھروں کے اندر تک داخل ہو چکا ہے۔ ہم تین دن تک بھوکے رہے۔ یہاں ہمارا سامان اور مال مویشی موجود ہیں، ہم انہیں چھوڑ کر کیسے چلے جائیں؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ بارشوں سے پہلے دوائیں خرید کر رکھی تھیں، لیکن اب وہ بھی ختم ہو چکی ہیں۔ ’ہمارے لیے بہت مشکل ہو رہی ہے۔ ہم کہاں جائیں؟ پانی ختم ہوگا تو ہی باہر نکل سکیں گے۔‘
مزید بارشیں متوقع
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ سیلاب سے کم از کم ایک ہزار 215 مکانات متاثر ہوئے، جن میں ایک ہزار 75 فیروزوالا جبکہ 140 مریدکے میں واقع ہیں۔ مجموعی طور پر 43 ہزار 188 ایکڑ اراضی زیرِ آب آئی۔ ادارے کے مطابق 738 افراد اور 46 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے، جبکہ 13 امدادی کیمپ قائم کیے گئے۔ ایک درجن سے زائد طبی کیمپوں اور موبائل کلینکس میں ایک ہزار 633 مریضوں کو علاج فراہم کیا گیا، جبکہ چار ہزار 85 راشن بیگز متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔ ریسکیو 1122 نے سات ڈی واٹرنگ سیٹس نصب کیں، جبکہ میونسپل کمیٹیوں نے مزید 25 مشینیں بھی لگائی ہیں۔
این ڈی ایم اے کی رپورٹس کے مطابق 26 جون سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران 26 جولائی تک ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں 55 اموات خیبرپختونخوا اور 36 پنجاب میں ریکارڈ کی گئیں۔ بعد میں 29 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 110 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تقریباً 360 افراد زخمی اور تقریباً 800 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی اموات میں تقریباً 65.8 فیصد ہلاکتیں مکانات گرنے کے باعث ہوئیں، جبکہ بجلی کا کرنٹ لگنا، آسمانی بجلی گرنا اور ڈوبنے کے واقعات بھی نمایاں وجوہات میں شامل رہے۔
حکام کے مطابق جمعرات کو نالہ بھیڑ اور نالہ دیگ میں پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی تھی اور صورتحال بتدریج معمول کی طرف واپس آتی دکھائی دے رہی تھی، تاہم متعلقہ ادارے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کے پیش نظر الرٹ ہیں۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے 29 جولائی سے 5 اگست تک پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں وسیع پیمانے پر بارشوں اور آندھی طوفان کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شیخوپورہ سمیت کئی اضلاع میں کہیں کہیں انتہائی شدید بارش متوقع ہے۔