Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نامور کوہ پیما نرمل پُرجا کی لاش مل گئی،’یہ وہی پہاڑ تھا جس سے انہیں بے حد محبت تھی‘

پاکستان کے الپائن کلب کے مطابق عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا کی لاش مل گئی ہے۔
الپائن کلب کے بیان کے مطابق امدادی کارکن اتوار کو گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک سے ملنے والی چار لاشیں نیچے لا رہے ہیں۔ ان میں  نرمل پُرجا کے علاوہ دو نیپالی شہری اور ایک چینی شہری کی لاش بھی شامل ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی مطابق سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’زمینی راستے سے جانے والی امدادی ٹیم کو تقریباً 5700 میٹر کی بلندی پرنرمل پُرجا کی لاش ملی۔ یہ وہی پہاڑ تھا جس سے انہیں بے حد محبت تھی، اور آج اسی پہاڑ نے انہیں ہم سے جدا کر دیا۔`
43 سالہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا کی قیادت میں بین الاقوامی مہم کے ارکان جمعرات کو اس وقت لاپتہ ہو گئی تھے جب براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا اور سنیچر کو نرمل پُرجا اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ 
کلب کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم چار لاشیں پہاڑ سے نیچے منتقل کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امدادی اہلکاروں نے اس سے بھی زیادہ بلندی پر ایک اور لاش کی موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم انتہائی دشوار گزار راستوں اور خراب موسمی حالات کے باعث فی الحال اس لاش کو نکالنے کی کوشش کیے جانے کا امکان بہت کم ہے۔
اس سے پہلے گلگت بلتستان کی  حکومت کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے جمعے کی شب ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک تین کوہ پیماؤں کی لاشیں نکال کر شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی سارہ میلوری گیس، عمان کی کوہ پیما نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ شامل ہیں۔
کمپنی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’انتہائی دکھ اور گہرے رنج کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد نرمل پُرجا جان کی بازی ہار گئے۔ ہمیں اس بات کی بھی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ مہم کے دیگر ارکان بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچ سکے۔‘
نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ نے نرمل پرجا اور دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سانحے نے پوری قوم کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ ان کوہ پیماؤں کا جسمانی سفر ختم ہو گیا، تاہم ان کی جرات، عزم اور خدمات ہمیشہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
’کوہ پیمائی سیزن کا مہلک ترین سانحہ‘
یہ حادثہ 30 جولائی کو تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان برفانی تودہ گرنے کے باعث پیش آیا، جسے حالیہ برسوں میں پاکستان کے کوہ پیمائی سیزن کا مہلک ترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کوہ پیمائی کی دنیا کا درخشاں نام


نرمل پرجا  نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

43 سالہ نرمل پرجا برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز سپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ کوہ پیمائی اور مہم جوئی کو اپنا میدان بنایا اور مختصر عرصے میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔
انہوں نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے بعد میں بھی کوہ پیمائی کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا رہا۔
حادثے سے چند روز قبل نرمل پرجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ وہ بغیر اضافی آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو ’دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے انسان‘ بننے کے قریب ہیں۔ براڈ پیک روانگی سے قبل انہوں نے لکھا تھا کہ ’براڈ پیک، میں تم سے صرف محفوظ واپسی کی دعا مانگتا ہوں۔‘
براڈ پیک کی بلندی 8,047 میٹرہے اور قراقرم کے سلسلۂ کوہ میں کے ٹو کے قریب واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اسے آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں تکنیکی اعتبار سے مشکل ترین اور خطرناک مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ 1957 میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا۔
 

شیئر: