سولر صارفین سے بجلی کا ’مہنگا یونٹ‘ خریدنے کی تجویز، نئی مجوزہ پالیسی کیا ہے؟
سولر صارفین سے بجلی کا ’مہنگا یونٹ‘ خریدنے کی تجویز، نئی مجوزہ پالیسی کیا ہے؟
منگل 4 اگست 2026 6:56
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
سولر صارفین نیٹ میٹرنگ سے اپنا رُخ موڑ کر تیزی سے بیٹری سٹوریج سسٹمز کو اپنا رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں حکومت کی جانب سے رواں سال نیٹ میٹرنگ کے بدلے ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد اب سولر لگوانے والے صارفین کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
گھروں یا کمرشل بنیادوں پر نیا سولر سسٹم لگوانے والے بیشتر صارفین قومی گرڈ سے جُڑنے یا اپنی اضافی بجلی ڈِسکوز کو بیچنے میں دلچسپی نہیں لے رہے بلکہ وہ بیٹری سٹوریج کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تاہم اس بدلتی صورتِ حال اور گرڈ سے صارفین کے الگ ہونے کا تدارک کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت اب صارفین کو شام کے اوقات میں اپنی بیٹری سٹوریج کی بجلی ڈسکوز کو فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کی اس مجوزہ پالیسی کے مطابق ’ٹائم آف یوز‘ فریم ورک متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت بیٹری سٹوریج والے سولر صارفین شام کے پیک آورز میں اپنی بجلی قومی گرڈ کو واپس بھیج سکیں گے جس پر انہیں معمول کے ریٹ سے 18 سے 22 روپے فی یونٹ اضافی ادا کیے جا سکتے ہیں۔
حکومت کی اس مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد صارفین کے بیٹری سسٹمز کو قومی گرڈ کی معاونت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گرمیوں کی شام، یعنی 5 سے 10 بجے کے درمیان بجلی کی قومی طلب 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے جبکہ اس وقت سورج نہ ہونے کے باعث سولر پیداوار صفر ہو جاتی ہے۔
اس شدید دباؤ کو سنبھالنے کے لیے حکومت کو فرنس آئل اور ایل این جی کے مہنگے پاور پلانٹس چلانا پڑتے ہیں، لہٰذا اگر صارفین شام کے اوقات میں اپنی بیٹریوں سے گرڈ کو بجلی واپس بھیجیں گے تو حکومت ان بھاری پیداواری اخراجات سے بچ سکے گی۔
نیٹ بلنگ کے نظام میں صارفین دلچسپی کیوں نہیں لے رہے؟
وفاقی حکومت کی جانب سے روایتی ’نیٹ میٹرنگ‘ کے بدلے ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام نافذ کیے جانے کے بعد سے صارفین اس نئے فریم ورک کو قبول کرنے سے کتراتے نظر آرہے ہیں۔
پاکستان میں جنوری 2024 سے جُون 2026 کے دوران 1 ارب 26 کروڑ روپے کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کی گئیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پُرانے نظام میں ایک کے بدلے ایک یونٹ کا مساوی بنیاد پر حساب ہوتا تھا، یعنی دن کے وقت گرڈ کو دیے گئے یونٹس رات کو بغیر کسی اضافی رقم کے واپس مل جاتے تھے۔
تاہم نئے نظام میں گرڈ کو بیچی جانے والی اور گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمتوں میں بڑا فرق پیدا کر دیا گیا ہے، جس سے سولر سسٹمز کی مالی افادیت متاثر ہوئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت سولر صارفین کو دن کے وقت اپنی سرپلس بجلی گرڈ کو محض 11 سے 13 روپے فی یونٹ کے ہول سیل ریٹ پر بیچنا پڑتی ہے، جبکہ رات یا شام کے اوقات میں گرڈ سے بجلی لیتے وقت تمام ٹیکسز اور سرچارجز ملا کر 45 سے 60 روپے فی یونٹ ادا کرنا ہوتے ہیں۔
اسی قیمت کے بڑے فرق نے سولر سسٹم پر آنے والی سرمایہ کاری کی واپسی کا دورانیہ دو گنا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین اب نیٹ بلنگ کا حصہ بننے کے بجائے ’ہائبرڈ‘ اور لیتھیم بیٹری سسٹمز اپنا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی بجلی گرڈ کو سستے داموں بیچنے کے بجائے خود ذخیرہ کر کے استعمال کر سکیں۔
لیتھیم بیٹریوں کی ریکارڈ درآمد: اعداد و شمار سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی لیتھیم آئن بیٹریوں کے استعمال میں ہونے والا بڑا اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق نیا ماڈل قومی گرڈ اور صارفین دونوں کے لیے فائدے کا باعث بن سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف ہی)
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے جُون 2026 کے دوران پاکستان میں 6.004 گیگاواٹ آور کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کی گئیں، جن کی کل مالیت 1 ارب 26 کروڑ روپے یا قریباً 454.7 ملین ڈالر بنتی ہے۔
حیران کن طور پر جنوری 2024 میں جہاں بیٹیریوں کی ماہانہ درآمد محض 42 میگاواٹ آور تھی، وہیں اپریل 2026 میں یہ حجم 1640 فیصد کے تاریخی اضافے کے ساتھ 652.2 میگاواٹ آور کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سولر صارفین اب نیٹ میٹرنگ سے اپنا رُخ موڑ کر تیزی سے بیٹری سٹوریج سسٹمز کو اپنا رہے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ: پالیسی میں تبدیلی اور اس کی وجوہات
یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فروری 2026 میں نئے سولر صارفین کے لیے 2015 سے نافذ العمل نیٹ میٹرنگ کے نظام کو ختم کرکے ’نیٹ بلنگ‘ کا فریم ورک متعارف کروایا تھا۔
نیٹ بلنگ ایک ایسا معاشی ماڈل ہے جس میں صارف کی گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی سولر بجلی کی قیمت (ہول سیل بائے بیک ریٹ) اور گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت (ریٹیل ٹیرف بشمول ٹیکسز) کو مکمل طور پر الگ کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث ایک کے بدلے ایک یونٹ کی مساوی ایڈجسٹمنٹ ختم ہو جاتی ہے۔
نیپرا نے فروری 2026 میں نئے سولر صارفین کے لیے ’نیٹ بلنگ‘ کا فریم ورک متعارف کروایا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس پالیسی کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے بڑھتے ہوئے مالی نقصانات اور ملک میں ’کپیسٹی پیمنٹس‘ کا بحران تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ پُرانے ایک کے بدلے ایک یونٹ (مساوی ایڈجسٹمنٹ) والے نیٹ میٹرنگ ماڈل کی وجہ سے صاحبِ ثروت صارفین کے بل تو زیرو ہو رہے تھے، مگر گرڈ کے فِکسڈ اخراجات کا بوجھ اُن عام صارفین پر منتقل ہو رہا تھا جو سولر سسٹمز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اسی کپیسٹی چارجز کے بوجھ کو کنٹرول کرنے، قومی گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات پورے کرنے اور پاور سیکٹر کو مالی بحران سے بچانے کے لیے نیپرا اور پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری جانب ماہرینِ توانائی حکومت کی اس نئی تجویز کو ایک دُہرا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ماڈل شام کے وقت گرڈ پر 26 ہزار میگاواٹ کا شدید دباؤ کم کرنے اور مہنگے فرنس آئل و ایل این جی پلانٹس کا بوجھ کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا تمام تر انحصار صارفین کے اعتماد پر ہوگا۔
توانائی کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ حکومت کے نئے ماڈل کی کامیابی کا تمام تر انحصار صارفین کے اعتماد پر ہوگا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق نیٹ بلنگ کے نفاذ کے بعد صارفین پہلے ہی معاشی تحفظات کا شکار ہیں، اس لیے اگر حکومت نے شام کو بیٹری سے گرڈ کو بجلی دینے پر معقول اور پُرکشش بائے بیک ریٹ فراہم نہ کیا تو شہری اپنی بیٹیریوں کی توانائی گرڈ کو بیچنے کے بجائے صرف اپنے گھریلو استعمال کے لیے محفوظ رکھنے کو ترجیح دیں گے۔
مزید برآں ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے محض ترغیب کافی نہیں بلکہ ڈِسکوز کے پاس سمارٹ میٹرنگ اور ٹو وے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا ہونا بھی لازمی ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومت بیٹریوں کی لائف سائیکل کے نقصان کی معقول تلافی اور شفاف ادائیگیوں کا طریقہ کار وضع نہیں کرتی تو یہ تجویز کاغذات تک ہی محدود رہے گی۔
تاہم اگر ایک متوازن فریم ورک تیار کر لیا جائے تو یہ ماڈل قومی گرڈ اور صارفین دونوں کے لیے فائدے کا باعث بن سکتا ہے۔