Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے میں کیا کھائیں؟

ایک تحقیق میں روزانہ ایک انڈہ کھانے سے دل کی بیماری اور فالج ہونے کا امکان نسبتاً کم ہو جاتا ہے (فائل فوٹو: پِکسابے)
صحت سے متعلق ایک نئی تحقیق میں ’ثابت اناج‘ کو دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق یورپیئن ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق روزانہ چار سے چھ حصے، یعنی قریباً 60 سے 100 گرام ثابت اناج کا استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں کمی سے منسلک ہے۔
تحقیق کے مطابق ثابت اناج میں غذائی فائبر، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ 
یہ اجزا خون میں ایل ڈی ایل یا ’خراب‘ کولیسٹرول، جسمانی وزن، بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کی سطح کو کم رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 
جسم میں مسلسل رہنے والی سوزش بھی دل کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جسے کم کرنے میں اینٹی آکسیڈنٹس مددگار ہوسکتے ہیں۔
غذائی ماہر ہیدر ڈینیئلز کے مطابق ناشتے میں دلیہ ثابت اناج اور فائبر حاصل کرنے کا آسان ذریعہ ہے۔ قریباً 30 سے 40 گرام دلیہ ایک حصے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ 
دلیے کی ایک مقدار میں چار گرام تک غذائی فائبر ہوسکتا ہے، جس میں قریباً نصف حل پذیر فائبر ہوتا ہے۔ 
یہ فائبر آنتوں میں کولیسٹرول اور بائل ایسڈز کے ساتھ جُڑ کر انہیں جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم ہوسکتی ہے۔
غذائی ماہر کے مطابق دلیے میں قریباً 200 ملی لیٹر کم چکنائی والا یا سکمڈ دودھ شامل کرنے سے پروٹین بھی حاصل ہوتی ہے۔
یہ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھنے، ہاضمہ سُست کرنے اور خُون میں شوگر کی سطح میں اچانک اضافے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ رسبری جیسی بیریاں شامل کرنے سے فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے۔
رپورٹ میں انڈے کے ساتھ ثابت اناج کی روٹی کو بھی صحت مند ناشتے کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ثابت اناج کی روٹی کو بھی صحت مند ناشتے کے طور پر تجویز کیا گیا ہے (فائل فوٹو: پِکسابے)

ماہرین کے مطابق صحت مند افراد کے لیے مناسب مقدار میں انڈوں کا استعمال تشویش کا باعث نہیں، جبکہ مجموعی خوراک بھی اہمیت رکھتی ہے۔ 
ایک تحقیق میں روزانہ ایک انڈہ کھانے کو دل کی بیماری، فالج اور ان سے متعلق اموات کے کم خطرے سے منسلک کیا گیا تھا۔
دوپہر کے کھانے میں ثابت اناج کی روٹی کے ساتھ سموکڈ سالمن یا سستی متبادل کے طور پر ڈبہ بند سارڈین اور میکریل تجویز کیے گئے ہیں۔ 
ان مچھلیوں میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح، بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کا استعمال بھی فائبر اور دیگر غذائی اجزا فراہم کرتا ہے۔
رات کے کھانے میں روسٹ چکن یا سالمن کے ساتھ براؤن رائس اور سبز پتوں والی سبزیاں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

 سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کا استعمال بھی فائبر اور دیگر غذائی اجزا فراہم کرتا ہے (فائل فوٹو: پِکسابے)

پالک، کیل، بروکولی اور دیگر سبزیاں غذائی نائٹریٹس کا ذریعہ ہیں، جو جسم میں نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتی ہیں اور خون کی نالیوں کو پھیلانے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک میں تبدیلی ایک دم کرنے کی ضرورت نہیں۔ سفید ڈبل روٹی کے بجائے ثابت اناج کی روٹی، کم فائبر والے ناشتے کے بجائے جئی یا چوکر اور سفید چاول یا پاستا کے بجائے براؤن چاول یا ثابت اناج والا پاستا استعمال کرکے بتدریج تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
کوئنوا، جو، براؤن رائس اور ثابت اناج کو سلاد، سوپ اور دیگر کھانوں میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فائبر کی مقدار بڑھاتے وقت مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے تاکہ ہاضمے کی تکلیف سے بچا جاسکے۔ 
خریداری کے دوران صرف ’ملٹی گرین‘ یا ’ہول گرین‘ جیسے الفاظ پر انحصار کرنے کے بجائے اجزا کی فہرست دیکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ثابت گندم، ثابت جئی یا ثابت رائی جیسے اجزا نمایاں مقدار میں شامل ہوں۔

شیئر: