Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روہنگیا بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 177 ملین ڈالر کی سعودی امداد

بنگلہ دیش میں اب بھی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا ہناہ گزین موجود ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
ایوان شاہی کے مشیر سعودی امدادی ایجنسی کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے جنرل سُپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں روہنگیا بحران اور انسانی سفارتکاری سے متعلق دو اعلی سطح کے اجلاسوں میں شرکت کی۔
ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر الربیعہ نے اپنے خطاب میں کہا ’بنگلہ دیش میں اب بھی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا ہناہ گزین موجود ہیں جن کی بڑی تعداد انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا رواں برس مشترکہ امدادی منصوبہ بندی کے مطابق تقریبا 16 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں اور میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے 71 کروڑ ڈالر سے زائد درکار ہیں۔
انہوں نے انسانی ضروریات پوری کرنے، بین لاقوامی انسانی قانون کا احترام یقینی بنانے خصوصا خواتین اور بچوں کو سنگین خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے عالمی برادری کے متحد ہونے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’صرف انسانی امداد کافی نہیں بلکہ میانمار میں ایسے حالات پیدا کرنا بھی ضروری ہیں جن میں روہنگیا پناہ گزین محفوظ، رضاکارانہ اور پائیدار انداز میں اپنے وطن کو لوٹ سکیں۔‘
انہوں نے بتایا مملکت نے سال 2017 سے اب تک روہنگیا بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر(177 ملین) سے زائد رقم فراہم کی ہے۔

سعودی امدادی ایجنسی مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر خوراک، رہائش، پانی اوردیگر ضروریات پورا کرنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر الربیعہ نے انسانی سفارتکاری اور اس کا عملی نفاذ: ’انسانی کارروائی کے لیے سفارتکاری کو موثر بنانا ‘ کے عنوان سے اجلاس میں شرکت کی۔
 ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ ’آج ہمیں انسانی امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سیاسی رکاوٹیں، قدرتی آفات، بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں اور امدادی وسائل کی کمی شامل ہے۔‘

انہوں نے غزہ سمیت دنیا کو درپیش مختلف بحران زدہ علاقوں میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا امدادی قافلوں پر حملے، شہری علاقوں پرڈرون حملے، بچوں کی ہلاکتیں، خواتین کے خلاف تشدد اور امداد کی رسائی میں رکاوٹیں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں جبکہ دنیا بھر میں تقریبا 12 کروڑ افراد کو جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے سفارت کاری کو انسانی کارروائی سے جوڑنے پر زور دیا اور کہا فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور منصفانہ و پائیدار امن کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام اختیاری نہیں، شہریوں یا امدادی کارکنوں پرحملوں کے معاملے میں خاموشی یا عدم احتساب قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔‘

 انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب انسانی ضروریات پوری کرنے، میزبان کمیونٹی کی مدد اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے محفوظ و پائیدار مستقبل کی تشکیل دینے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق انسانی سفارتکاری کا مقصد محض مذاکرات تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے ایسی عملی قوت بنانا ہوگا جو زندگیاں بچانے، امداد کی محفوظ رسائی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کے لیے موثر نتائج کی حامل ہوں۔

 

شیئر: