Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی سرحدی خطے کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، رابطوں اور معیشت کا محرک

دربِ زبیدہ حج اور تجارت کے راستوں کے حوالے سے ایک اہم دور کا گواہ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن میں مختلف ادوار کے دوران ذرائعِ آمدورفت نے نمایاں ترقی کی ہے۔ اس سفر کی جڑیں تاریخی دربِ زبیدہ سے ملتی ہیں جو صدیوں تک حج اور تجارتی قافلوں کے لیے ایک اہم شاہراہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق ترقی کا سفر مراحلہ وار جاری رہا۔ درب زبیدہ سے شروع ہونے والا سفر ریلوے اور ایئر ٹرانسپورٹ تک پہنچ گیا۔
جدید نظام نے علاقے کو مملکت کے دیگر خطوں سے جوڑنے افراد اور سامان کی ٹرانسپورٹیشن اور معاشرتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
دربِ زبیدہ حج اور تجارت کے راستوں کے حوالے سے ایک اہم دور کا گواہ ہے۔ یہ راستہ 1400 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے جس پر27 مرکزی اور اتنی ہی ثانوی منزلیں قائم تھیں۔
حجاج اور مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے راستے میں تقریباً 50 تالاب اور بڑے حوض تعمیر کیے گئے تھے۔
یہ تاریخی راستہ کوفہ سے شروع ہو کر مملکت کے شمالی علاقوں رفحا، حائل اور قصیم سے گزرتا ہوا مکہ مکرمہ پہنچتا تھا۔ اس راستے پر مختلف تالاب، کنویں اور آبی تنصیبات بنائی گئی تھیں جنہوں نے طویل مسافت کے دوران حجاج اور مسافروں کے نقل و حمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو میں درب زبیدہ کا ایک بڑا حصہ شامل ہے۔ یہاں متعدد قدیم تاریخی سٹیشنز بھی ہیں جن میں سے بیشتر کے تعمیراتی آثار آج بھی موجود ہیں۔
درب زبیدہ کے ساتھ قائم آبی تنصیبات اس دور میں پانی کے انتظام کے لیے اختیار کیے گئے ترقی یافتہ انجینیئرنگ حل کی عکاس ہیں۔
بعض تالابوں کو سیڑھی نما انداز میں تعمیر کیا گیا تھا تاکہ پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود اس تک رسائی آسان رہے۔

مملکت میں ٹرانسپورٹیشن کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ خصوصاً معدنی وسائل کی منتقلی اوران کے پیداواری و برآمدی مراکز سے ربط کے حوالے سے ریلوے بھی جدید معاشی سرگرمیوں کا اہم جزو بن گئی۔
شمالی مال بردار ٹرین لائن کی لمبائی 1550 کلومیٹر ہے جو شمالی حدود کے علاقے میں موجود ’گلامیڈ کان‘ سے شروع ہو کر الجوف اور حائل سے گزرتی ہوئی قصیم کے علاقے ’البعیثہ جنکشن‘ تک پہنچتی ہے جہاں سے یہ مشرقی علاقے میں واقع راس الخیر کی پروسیسنگ اور برآمدی تنصیبات سے منسلک ہوتی ہے۔

اس ریلوے لائن کی اہمیت وسیع پیمانے پر کارگو سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران شمالی ٹرین نے تقریباً 33 لاکھ ٹن سامان منتقل کیا جو سپلائی چین کو سہارا دینے اور پیداواری مراکز کو صنعتی و معاشی مراکز سے جوڑنے میں ریلوے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
علاقے میں ٹرانسپورٹیشن کے نظام کی ترقی کا دائرہ فضائی سفر تک وسعت اختیار کرگیا۔ عرعر انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے میں اہم ہے۔ مسافروں کی سالانہ گنجائش 10 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ پروازوں کی تعداد بھی 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس منصوبے پر 382 ملین ریال لاگت آئی۔

 

شیئر: