میتھلی ٹھاکر کون ہیں اور کنگنا رناوت ان کا دفاع کیوں کر رہی ہیں؟
میتھلی ٹھاکر کون ہیں اور کنگنا رناوت ان کا دفاع کیوں کر رہی ہیں؟
منگل 22 ستمبر 2026 6:11
یوسف تہامی، دہلی
کنگنا رناوت نے کہا کہ عوامی خدمت میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فن کار کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی اور کامیابی سے دست بردار ہونا پڑے (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
کیا آپ میتھلی ٹھاکر کو جانتے ہیں؟ شاید آپ نے پہلے ان کا نام سنا ہو کیونکہ وہ گذشتہ دنوں انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والی سب سے کم عمر امیدوار تھیں۔ لیکن آج ہم ان کا ذکر کیوں کر رہے ہیں۔
در اصل میتھلی ٹھاکر، جو متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، جب انتہائی مہنگی اور پرتعیش کار میں ایک مذہبی تقریب میں پہنچیں تو لوگوں نے ان کی آمدنی پر سوال کرنا شروع کر دیا جو کسی ٹرولنگ سے کم نہیں۔
میتھلی ٹھاکر کا شمار انڈیا کے ان نوجوان فن کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے روایتی موسیقی کو سوشل میڈیا اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی نسل تک پہنچایا۔
ریاست بہار کے مدھوبنی ضلعے کے بینی پٹی علاقے سے تعلق رکھنے والی میتھلی نے کم عمری ہی میں گائیکی کا آغاز کیا اور آگے چل کر لوک گيت، بھکتی گیت اور کلاسیکی موسیقی میں اپنی الگ شناخت بنائی۔
سنہ 2017 میں ٹیلی ویژن کے موسیقی پروگرام ’رائزنگ سٹار‘ میں شرکت کے بعد ان کی شہرت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ یوٹیوب اور دیگر سماجی ذرائع ابلاغ نے ان کی آواز کو ملک کی سرحدوں سے باہر تک پہنچا دیا۔
موسیقی کی دنیا میں کامیابی کے بعد میتھلی نے سیاست کا رخ کیا۔ سنہ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر علی نگر حلقے سے کامیابی حاصل کرکے وہ ریاست کی کم عمر ترین ارکانِ اسمبلی میں شامل ہوگئیں۔
انتخابی حلف نامے کے مطابق اس وقت ان کی عمر 25 برس تھی۔ ان کے پیشے کا اندراج ’گلوکارہ‘ کے طور پر کیا گیا تھا۔ انتخابی دستاویزات کے مطابق میتھلی نے تقریباً تین کروڑ 82 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کیے تھے اور اس میں کسی قرض یا واجب الادا رقم کا ذکر نہیں تھا۔
ان کے حلف نامے میں منقولہ اثاثوں کی مالیت تقریباً دو کروڑ 32 لاکھ روپے اور غیر منقولہ اثاثوں کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ ان کی آمدنی کا تعلق صرف سیاست سے نہیں بلکہ ان کا بنیادی پیشہ موسیقی رہا ہے۔ مائی نیتا نامی ویب سائٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں ان کی ظاہر کردہ آمدنی تقریباً 28.67 لاکھ روپے تھی، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں یہ رقم تقریباً 16.99 لاکھ روپے رہی تھی۔
سیاست میں آنے سے بہت پہلے میتھلی ٹھاکر ایک معروف گلوکارہ تھیں (فوٹو: انسٹاگرام لکشمی نگر)
ان کا یہی پس منظر آج کل ایک نئی بحث کا سبب بنا ہوا ہے۔
ستمبر سنہ 2026 میں ممبئی کے معروف لال باغ میں ہندو تہوار ’گنیش اتسو‘ کے موقع پر میتھلی ٹھاکر ایک نیلے رنگ کی رولز رائس کلینن میں پہنچیں۔ ڈرائیور کے ساتھ چلنے والی اس انتہائی پرتعیش گاڑی کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ فری پریس جرنل کے مطابق اس گاڑی کی ممبئی میں سڑک پر قیمت مختلف ماڈل اور ٹیکس کے لحاظ سے 13 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
بس پھر کیا تھا، سوشل میڈیا پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ بعض صارفین نے میتھلی کے انتخابی حلف نامے میں درج اثاثوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر ان کے ظاہر کردہ اثاثے تقریباً 3.82 کروڑ روپے ہیں تو اتنی مہنگی گاڑی ان کے پاس کیسے آئی
بعض تبصروں میں آمدنی کے ذرائع کی جانچ اور محکمۂ انکم ٹیکس سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ حلف نامے میں ’ایکٹیوا‘ (ایک متوسط طبقے میں مقبول موٹر کار) اور باہر ’رولز رائس‘، آخر معاملہ کیا ہے؟
سی اے روچیکا واگھنی نامی ایک صارف نے انکم ٹیکس کے محکمے کو ٹیگ کرتے ہوئے میتھلی ٹھاکر کے اثاثے کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’نام: میتھلی ٹھاکر، مجموعی دولت: چار کروڑ روپے (حلف نامے کے مطابق)، کار: 13 کروڑ روپے (رولز رائس)، کیسے؟‘
لیکن یہاں ایک اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب تک ایسی کوئی مستند اطلاع سامنے نہیں آئی کہ یہ رولز رائس میتھلی ٹھاکر کی ذاتی ملکیت ہے۔ متعلقہ خبروں کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ گاڑی انہوں نے کرائے پر حاصل کی تھی، کسی جاننے والے کی تھی یا کسی خصوصی انتظام کے تحت انہیں فراہم کی گئی تھی۔
لہٰذا محض کسی مہنگی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے نظر آنے سے اس کی ملکیت میتھلی کے نام منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
منوج اروڑا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سیاست سے بڑا کوئی بزنس نہیں ہے۔ مذہب اس کے بس پیچھے پیچھے ہے۔‘
میتھلی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی مالی حیثیت کو صرف ایک رکنِ اسمبلی کی تنخواہ کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔ سیاست میں آنے سے بہت پہلے وہ ایک معروف گلوکارہ تھیں، ان کے لاکھوں مداح ہیں، یوٹیوب پر ان کی موسیقی کو وسیع پیمانے پر سنا جاتا ہے اور وہ ملک و بیرون ملک مختلف پروگراموں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ انتخابی حلف نامے میں بھی ان کا پیشہ گلوکاری درج ہے۔
کنگنا کی حمایت
اسی بحث کے دوران اداکارہ اور بی جے پی کی رکنِ پارلیمان کنگنا رناوت بھی میتھلی کے دفاع میں سامنے آئیں۔ کنگنا نے سماجی ذرائع ابلاغ پر سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص سیاست میں آنے سے پہلے ہی اپنے فن اور پیشے کے ذریعے کامیاب ہوچکا ہو تو اسے اپنی محنت سے حاصل ہونے والی آسائشیں استعمال کرنے پر کیوں تنقید کا سامنا کرنا چاہیے۔
انگریزی روزنامے دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کا مؤقف تھا کہ عوامی خدمت میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فن کار کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی اور کامیابی سے دست بردار ہونا پڑے۔ اس کے بعد کنگنا رناوت کو بھی سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جانے لگا۔
لیکن کنگنا کی حمایت کے بعد بحث کا ایک نیا رخ سامنے آیا۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو عوامی نمائندوں کے مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی کو اہم قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ افراد ہیں جو کہتے ہیں کہ کسی سیاست داں کے ماضی کے پیشے، آمدنی اور ذاتی اثاثوں کو بھی پوری تصویر کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اس معاملے میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ رولز رائس کلینن کی ملکیت میتھلی ٹھاکر کے نام ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
میتھلی ٹھاکر کا معاملہ دراصل آج کی سیاست اور سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے رشتے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایک نوجوان لوک گلوکارہ اپنی آواز اور فن کے ذریعے شہرت حاصل کرتی ہے، پھر انتخابی سیاست میں قدم رکھتی ہے، اسمبلی پہنچتی ہے اور اچانک ایک پرتعیش گاڑی میں اس کی ایک جھلک پورے ملک میں بحث کا موضوع بن جاتی ہے۔
فی الحال اس معاملے میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ رولز رائس کلینن کی ملکیت میتھلی ٹھاکر کے نام ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ چنانچہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سوالات اپنی جگہ، لیکن انہیں کسی حتمی مالی بے ضابطگی کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
البتہ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور کراتا ہے کہ آج کے دور میں کسی عوامی شخصیت کی چند لمحوں کی ویڈیو بھی اس کے ماضی، آمدنی، طرزِ زندگی اور سیاسی کردار پر ایک بڑی بحث چھیڑ سکتی ہے۔