اے آئی کے مستقبل پر صدر ٹرمپ کی زکربرگ اور دیگر ٹیک سربراہان سے ملاقات
صدر ٹرمپ منگل کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات سے متعلق ضوابط پر بات چیت ہوگی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اجلاس میں ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن، میٹا کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی شریک ہوں گے، جبکہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین کی بھی شرکت متوقع ہے۔
مائیک جانسن نے کہا ہے کہ اجلاس میں اے آئی کی جدت اور نگرانی کے درمیان توازن پر بات ہوگی۔ ان کے مطابق امریکا کو اے آئی کی ترقی روکنے یا اس پر ضرورت سے زیادہ ضوابط عائد کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے چین کے مقابلے میں امریکہ پیچھے رہ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ بھی اے آئی سے انسانیت کو لاحق خطرات کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کی چین پر تکنیکی برتری برقرار رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے اے آئی ایجنٹس کی جانب سے صارفین کے سسٹمز میں بغیر ہدایات کے مداخلت اور ہیکنگ کے واقعات کے بعد اے آئی پر مزید ضوابط کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔
روئٹرز اور اِپسوس کے 17 سے 20 ستمبر کے سروے کے مطابق 73 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی کمپنیاں ٹیکنالوجی سے معاشرے کو ہونے والے سنگین نقصان کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہیں، جبکہ 55 فیصد نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی حمایت کی۔
ٹرمپ کی جانب سے جون میں جاری صدارتی حکم نامے کے تحت اے آئی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جدید اے آئی ماڈلز کو قابلِ اعتماد شراکت داروں کے لیے جاری کرنے سے 30 روز قبل امریکی حکومت کو رضاکارانہ جائزے کے لیے پیش کریں۔
یہ ملاقات گذشتہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس دورے کے بعد ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ شی جن پنگ نے کہا تھا کہ چین اور امریکا کے پاس اے آئی کو بہتر مقاصد کے لیے تیار اور منظم کرنے کی صلاحیت اور ذمہ داری ہے اور اس کی ترقی انسانی کنٹرول میں ہونی چاہیے۔