Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خون چوسنے والے کھٹمل، کیا بستر کا یہ کیڑا انسانوں میں خطرناک انفیکشن پھیلا سکتا ہے؟

نیویارک میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کھٹملوں کی موجودگی نے شدید سنسنی پھیلائی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دن کی روشنی سے دور فرنیچر کی دراڑوں اور بستروں کی تہہ میں چھپے کیڑے، جنہیں کیڑوں کی دنیا کا ’ویمپائر‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک بار پھر دنیا بھر میں بڑی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق اب طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کیڑے محض خارش اور بے خوابی کا سبب ہی نہیں بلکہ ایک خطرناک اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشن پھیلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں پیرس اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سنیما گھروں میں کھٹملوں کی موجودگی نے شدید سنسنی پھیلائی تھی۔
تاہم 2023 میں سامنے آنے والی ایک طبی تحقیق نے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ ڈکوٹا کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تجرباتی تحقیق کے مطابق کھٹمل خون چوستے وقت ’ایم آر ایس اے‘ نامی ایک ایسے بیکٹیریا کو منتقل کر سکتے ہیں جو عام اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت رکھتا ہے۔
کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا بھر میں ڈی ڈی ٹی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی وجہ سے کھٹملوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم دہائیوں کے دوران ان کیڑوں نے عام کیڑے مار ادویات کے خلاف زبردست مدافعتی نظام تیار کر لیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے متعدد ممالک میں ان کی آبادی میں دوبارہ خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرینِ حشرات کا کہنا ہے کہ گرمیوں کا موسم ان کی افزائش کے لیے انتہائی سازگار ہوتا ہے اور یہ سفر کے دوران ہوٹل کے کمروں یا استعمال شدہ فرنیچر کے ذریعے آسانی سے ایک سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
کھٹملوں سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق اس سے بچنے کا بہترین طریقہ احتیاط ہے۔ سفر کے دوران ہوٹل کے کمرے کے بستر اور دوشالوں کا بغور معائنہ کریں اور اپنا سامان بستر سے دور رکھیں۔ گھر واپسی پر تمام کپڑوں کو تیز گرم پانی سے دھونا اور تیز دھوپ میں سکھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
اگر گھر میں ان کیڑوں کی آمد ہو جائے تو عام کیمیکلز کا چھڑکاؤ کرنے کے بجائے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کرنا زیادہ مؤثر رہتا ہے کیونکہ یہ کیڑے کیمیکلز کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ سلیکا ڈسٹ اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد کی گرم بھاپ کے ذریعے ان کے انڈوں اور بالغ کیڑوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

شیئر: