قطیف کا تاریخی ورثہ ’حمام بو لوزہ‘ جو ایک چشمے کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا
چشمے سے پانی براہ راست چینل کے ذریعے حمام میں پہنچتا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
قطیف کمشنری میں واقع ابو لوزہ عمارت اور حمام اُن تاریخی ورثے کے مقامات میں شامل ہیں جنہیں ہیریٹیج کمیشن مختلف مراحل میں بحال کر رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ عمارت الشرقیہ ریجن کے مشہور گرم پانی کے چشموں میں سے ایک کے اوپر تعمیر کی گئی تھی جو سیاحوں اور مقامی افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت قطیف کے مغربی کنارے پر کھجور اور بادام کے درختوں کے درمیان تعمیر کی گئی تھی جسے ’حمام بو لوزہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے قریب ایک گرم پانی کا چشمہ بھی واقع تھا۔
یہ عمارت 1289 ہجری میں تعمیر کی گئی۔ اس کا طرزِ تعمیر مقامی تخلیقی صلاحیتوں اور خطے میں رائج روایتی تعمیراتی طریقوں کی عکاسی کرتا ہے۔
مقامی معماروں نے اسے روایتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے بنایا جس میں سمندری پتھر، پلاسٹر اور کھجور کے تنے شامل ہیں۔

یہ عمارت دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک مردوں اور دوسرا خواتین کے لیے ہے۔ اس میں ایک مستطیل شکل کا ایک کمرہ ہے جو چشمے کے سامنے واقع ہے۔ یہاں حمام میں آنے والوں کے بیٹھنے، آرام کرنے اور سامان رکھنے کے لیے جگہیں موجود ہیں۔
حمام میں ایک مستطیل تالاب ہے جس میں چشمے سے پانی براہ راست چینل کے ذریعے پہنچتا تھا۔ اس کے چاروں طرف بیٹھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔

ثقافتی ورثے کے محقق عبد رب الرسول الغریافی نے بتایا کہ ’یہ عمارت التوبی گاؤں کے شمال مشرق میں الخباقہ کے قریب واقع ہے اور قطیف کے گرم چشموں میں سے ایک کے اوپر تعمیر کی گئی۔‘
یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے مقاصد کے حصول کے لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مؤثر انتظام کے حوالے سے مملکت کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ورثے کے مقامات کو ایسے متحرک مقامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ثقافتی سیاحت اور پائیدار ترقی کو سپورٹ کرنے کے ساتھ کمیونٹی کا اپنی ثقافتی جڑوں کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنا سکیں۔
