Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال، شامی وزیر خارجہ کا 19 سال بعد دورۂ پاکستان

یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: پاکستانی وزارت خارجہ)
شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کے لیے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پاکستان میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا 19 سال بعد پہلا دورہ ہے۔
عرب نیوز کے مطابق الشیبانی کے ساتھ شامی حکام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ ان کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ ’دورے کے دوران دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کریں گے، تعاون کو مزید بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیں گے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘
شامی سرکاری خبر رساں ادارے (سنا) نے کہا کہ یہ 19 سال بعد کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پاکستان کا دورہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور رابطے کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ایرانی مسلح افواج نے بدھ کو خلیجی ممالک کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے امریکی فوج کی مدد کی تو یہ امریکی فوجی کارروائی میں شمولیت کے مترادف ہوگا۔ ایران کے چیف آف سٹاف علی عبد اللہی نے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق کہا کہ ’ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کو دی جانے والی کوئی بھی مدد یا سہولت امریکی فوجی آپریشن میں شرکت کے برابر ہے۔‘
پاکستان نے اس تنازع کے آغاز سے ہی واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور امن تجاویز پہنچائیں۔ اپریل میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرائی اور جون میں ایک عبوری امن معاہدہ بھی کروایا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق علاوہ ازیں ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین نصر بن اسماعیل بھی بدھ کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ’دورے کے دوران پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔‘

 

شیئر: