Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرقہ کا ہزار برس قدیم بیتِ عیسیٰ: نجدی تہذیب و ثقافت کا ایک زندہ عکس

افتتاح کے بعد سے اب تک اس گاؤں میں 15 ہزار سے زیادہ سیاح آ چکے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
عرقہ گاؤں ریاض ریجن کے قدیم ترین دیہات میں سے ایک ہے جس کی تاریخ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ ایک خوشحال زرعی مرکز ہوا کرتا تھا جہاں کچی اینٹوں سے بنے مکانات، تاریخی مساجد، کھیت اور پانی کے ذرائع نے اس کی منفرد تعمیراتی اور سماجی شناخت تشکیل دی۔
تاریخی گاؤں کے قلب میں واقع بیت عیسیٰ نجدی طرزِ زندگی کی قدیم روایات اور باریک جزئیات کو زندہ کرتا ہے۔
اس تاریخی مکان میں روایتی مجالس، کیفے، ثقافتی راستے، صحن اور چھتیں ہیں جو مل کر ایک ایسا دلکش تجربہ پیش کرتے ہیں جس میں نجدی ماحول کی منفرد طرزِ تعمیر اور سماجی روایات کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔
دستکاری اس تجربے کو تعمیراتی ورثے سے آگے بڑھاتے ہوئے اسے مزید وسعت دیتی ہے۔ مختلف ورکشاپس میں نسل در نسل منتقل ہونے والے ہنر کو دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے جبکہ مقامی دکانوں میں ہنرمندوں کے تیار کردہ فن پارے پیش کیے جاتے ہیں۔
یوں ورثہ اپنی سماجی اور معاشی جڑوں سے دوبارہ جڑ جاتا ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر سیاحوں کو نجدی طرزِ زندگی کے ان پہلوؤں کی ایک بھرپور جھلک دکھاتے ہیں جو کبھی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔
افتتاح کے بعد سے اب تک اس گاؤں میں 15 ہزار سے زیادہ سیاح آ چکے ہیں جبکہ گھریلو صنعت سے وابستہ 50 سے زیادہ خاندانوں کو بھی یہاں کام کے مواقع ملے ہیں۔

اس کے علاوہ 20 سے زائد پروڈکشن کمپنیوں نے یہاں فلم بندی کی جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس کے متعلق مواد کو 30 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا اور اس پر ردِعمل دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار گاؤں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کے تاریخی و ثقافتی مقامات کے متنوع استعمال کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

شیئر: