Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے نئے وزیراعظم فیصل راٹھور کون ہیں؟

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں چار برس کے دوران تیسری مرتبہ وزیراعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔
پیر کو وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد فیصل ممتاز راٹھور نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔
اس سے قبل پیر ہی کو فیصل ممتاز راٹھور نے چوہدری انوار الحق کی کابینہ میں وزیر بلدیات کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
وزیراعظم منتخب ہونے یا کسی بھی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 53 ارکان میں سے کم از کم 27 کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ ن ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ تحریک عدم اعتماد کے حق میں 36 ووٹ جبکہ مخالفت میں دو ووٹ ڈالے گئے۔
یہ سیاسی تبدیلی ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں صرف 8 ماہ باقی رہ گئے ہیں۔
چار برسوں میں اقتدار کی تبدیلیوں کی تاریخ
25 جولائی 2021 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سردار عبدالقیوم نیازی نے 4 اگست کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اس وقت اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت تھی۔
تاہم، صرف آٹھ ماہ بعد ہی پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے فارورڈ بلاک نے سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی۔ 16 اپریل 2022 کو اس پر ووٹنگ ہونا تھی لیکن عبدالقیوم نیازی نے دو روز قبل 14 اپریل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران استعفیٰ دے دیا۔
18 اپریل کو سیاست میں نووارد ایک کاروباری شخصیت سردار تنویر الیاس خان بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ اپوزیشن نے پی ٹی آئی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔
تاہم سردار تنویر الیاس کی حکومت بھی ایک سال مکمل نہ کر سکی۔
11 اپریل 2023 کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے انہیں توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا سناتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ عدالت نے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 45 کے تحت انہیں عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی جس کے نتیجے میں وہ دو برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو گئے۔

جولائی 2021 کے انتخابات کے بعد سردار عبدالقیوم نیازی نے چار اگست کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

یہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی وزیراعظم کو عدالت نے نااہل قرار دیا۔
اس سے قبل جون 2012 میں پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کے مقدمے میں نااہل قرار دیا تھا۔
چوہدری انوار الحق کی وزارتِ عظمیٰ
سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے بعد 20 اکتوبر 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری انوار الحق 53 رکنی ایوان میں 48 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ حیران کن طور پر انہیں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ان کے خلاف بھی کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔
چوہدری انوار الحق کی کابینہ میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے ارکان بھی شامل رہے۔ ان کے دورِ حکومت میں وقفے وقفے سے بڑے عوامی احتجاج اور لانگ مارچ ہوتے رہے جنہیں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے منظم کیا۔
احتجاجی مظاہروں میں سستے آٹے اور بجلی کی فراہمی سمیت متعدد عوامی مطالبات پیش کیے گئے۔ ان مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

چوہدری انوار الحق کی کابینہ میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے ارکان بھی شامل رہے (فائل فوٹو: ڈی جی پی آر، کشمیر)

اسلام آباد کی مداخلت کے بعد حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں حکومت کو کئی مطالبات ماننا پڑے۔ اس کے باوجود چوہدری انوار الحق کی حکومت قائم رہی۔
وہ اپنی حکومت کے خاتمے سے متعلق افواہوں یا سوالوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے رہے کہ ’اگر سیاسی مخالفین 27 ارکان کو اکٹھا کر کے پریس کانفرنس کر دیں تو میں گھر چلا جاؤں گا۔
حالیہ بحران اور حکومت کی تبدیلی
اکتوبر کے اوائل میں ایک بار پھر بڑے احتجاجی مظاہروں میں پرتشدد واقعات ہوئے جن میں 9 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وزیر امور کشمیر امیر مقام اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی مظفرآباد بھیجی جس نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔
پانچ اکتوبر کو مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی نے چھ روزہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔
حالیہ مظاہروں کے بعد اگرچہ حکومت کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دیتی رہی لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت نے اس جانب واضح پیش رفت نہیں کی۔ تاہم اکتوبر کے آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے چوہدری انوار الحق کی حکومت کے خلاف سرگرمیاں شروع کیں اور بالآخر دو برس اور تقریباً چھ ماہ بعد انہیں بھی وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنا پڑا۔

اکتوبر کے اوائل میں ایک بار پھر بڑے احتجاجی مظاہروں میں پرتشدد واقعات ہوئے جن میں 9 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اب کشمیر کے آئندہ عام انتخابات سے قبل آٹھ ماہ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں؟
11 اپریل 1978 کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے فیصل راٹھور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے بیٹے ہیں۔
فیصل راٹھور کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔
فیصل ممتاز کے والد ممتاز حسین راٹھور سنہ 1975 کے انتخابات کے بعد سینیئر وزیر، سنہ 1990 میں وزیراعظم، سنہ 1991 میں اپوزیشن لیڈر جبکہ سنہ 1996 میں سپیکر قانون ساز اسمبلی کے عہدوں پر فائز رہے۔

فیصل ممتاز کے والد ممتاز حسین راٹھور سنہ 1990 میں کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

ممتاز حسین راٹھور کی وفات کے بعد سنہ 1999 میں ان کے بڑے بیٹے مسعود ممتاز راٹھور بقیہ مدت کے لیے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے پہلا الیکشن سنہ 2006 میں حلقہ ایل اے-17 حویلی کہوٹہ سے لڑا جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
انہیں الیکشن پہلی کامیاب سنہ 2011 میں ملی جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس وقت کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیرِ اکلاس اور وزیرِ برقیات کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سنہ 2016 میں فیصل راٹھور ایک مقدمے میں گرفتار بھی ہوئے تاہم بعدازاں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ 23 مارچ 2017 کو وہ پیپلز پارٹی کشمیر کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔

فیصل ممتاز حسین راٹھور کی وفات سنہ 1999 میں ہوئی (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

فیصل ممتاز راٹھور سنہ 2021 کے انتخابات میں وہ دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سنہ 2023 میں وہ چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیرِ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بنے اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے چند گھنٹے قبل تک وہ اس عہدے پر موجود رہے۔
چوہدری انوار الحق کے دور حکومت میں کشمیر میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے چلنے والی عوامی حقوق تحریک سے مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی بھی فیصل ممتاز راٹھور کو سونپی گئی تھی۔

 

شیئر: