آج کل کی مڈل کلاس فیملی کے کسی بچے کے پاس بھی وہ سب کچھ ہے جو ہمارے پاس نہیں تھا۔ اچھا سکول، اکیڈمی، ٹیوٹر، موبائل، ٹیبلٹ، الماری کھلونوں سے بھری پڑی ہے، فریج میں وہ چیزیں ہیں جن کے نام تک ہم نے اپنے بچپن میں نہیں سنے تھے۔
باپ نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا ہے۔ ماں نے راتیں جاگ کر دیا ہے۔ اس کے باوجود شام کے کسی بے کار سے لمحے میں یہی بچہ صوفے پر لیٹا ہوا کہتا ہے، بور ہو رہا ہوں۔ یہ جملہ سن کر والدین کے دل پر جو گزرتی ہے، وہ وہی جانتے ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ یار میں نے تو کچھ بھی کمی نہیں چھوڑی، پھر یہ بور کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا اور ہم کبھی بور نہیں ہوئے۔
اس بات پر غور کرتے ہوئے ایک روز میرے ذہن میں ایک جملہ آیا اور پھر لگا کہ یہ بات درست ہے۔
مزید پڑھیں
-
کیا آپ کی زندگی کی چَس باقی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 906823
-
پاکستان کو وہ فتح مل گئی جس کی ضرورت تھی، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 907194
ہم نے اپنے بچوں کو سہولتیں دی ہیں، بچپن نہیں دیا۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ دے ہی نہیں پائے۔ غلطی ہماری نہیں، دراصل آج کا والد قصوروار سے زیادہ بے بس ہے۔
مغرب تک گھر آ جانا چاہیے
میرے والد مرحوم بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت سخت تھے۔ ان کا ایک اصول تھا اور واضح حکم دے رکھا تھا کہ مغرب کی اذان سے پہلے ہم دونوں بھائیوں کو گھر میں موجود ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی رعایت، کوئی بحث، کوئی اگر مگر نہیں تھا۔ جس بچے نے خلاف ورزی کی، اسے ایک شاندار قسم کی چھترول کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ایسی جو کئی دنوں تک خواب میں بھی ڈراتی رہے۔
والدہ اتنا سخت نہیں تھیں، کبھی ہمیں بچا بھی لیتیں مگر وہ اپنی جگہ ہمارے بارے میں خاصی کانشس رہتیں، آج کی زبان میں کہیں تو تھوڑی سی اوور پروٹیکٹiو تھیں۔ ہر وقت خیال رہتا کہ لڑکے کہاں ہیں، کس کے ساتھ ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ اب اس کے باوجود دیکھیں کہ ہوتا کیا تھا۔ چھٹی ساتویں جماعت کا لڑکا، یعنی گیارہ بارہ سال کی عمر، خاکسار عامر خاکوانی ہر روز عصر کے وقت گھر سے نکلتا اور کچھ ہی فاصلے پر گورنمنٹ صادق عباس ہائی سکول کے گراؤنڈ میں پہنچ جاتا۔
یہ وہی سکول تھا جہاں ہم صبح پڑھنے جاتے۔ ہم لڑکے وہاں فٹ بال کھیلتے۔ ساتھ والے گراؤنڈ میں کرکٹ ہوتی اور ایک الگ گراؤنڈ ہاکی کا تھا۔ محلے کے، شہر کے سب لڑکے بالے وہیں جمع ہوتے۔ باقاعدہ ٹورنامنٹ ہوتے۔ فٹ بال کے بھی، کرکٹ کے بھی اور ہاکی کے بھی۔
ہم ننگے پاؤں ہرے گھاس کے میدان پر فٹ بال کھیلا کرتے۔ ہم تب بھی خاصے ’صحت مند‘ تھے، اگرچہ بعض گستاخ لڑکے اپنی کم علمی کی بنا پر ہمیں موٹا بھی کہہ دیتے تھے۔ تیز بھاگ دوڑ ہم سے ہوتی نہیں تھی، فل بیک کھیلا کرتے اور ایک ہی سادہ اصول تھا کہ بندہ جائے یا فٹ بال۔ اگر کسی ناہنجار نے ڈاج دے کر نکلنے کی کوشش کی تو اسے محاورتاً نہیں حقیقی طور پر خاک چاٹنا پڑتی۔ میری پنڈلیوں پر کئی چوٹیں انہی دنوں کی یادگار ہیں۔ وہ دن مگر ایسے زندگی سے بھرپور تھے کہ پچھلے تیس پینتیس برسوں میں کبھی نہیں بھول پایا۔
کیا میرے بچے بھی ایسے کسی شاندار فزیکل تجربے سے روشناس ہوئے؟ جواب نفی میں ہے۔

اب یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے۔ ہمارے والدین آج کل کے فرینڈلی والدین سے کہیں زیادہ سخت تھے۔ ہماری مائیں بھی ہمارے لیے کم فکر مند نہیں تھیں۔ پھر بھی ہم آزاد تھے اور آج کا بچہ، جس کے ماں باپ اس سے دوستوں کی طرح بات کرتے ہیں، جو مار کھانے کے تصور تک سے واقف نہیں، وہ گھر میں بند ہے، کہیں باہر جا کر کھیل نہیں سکتا۔ تو یارو، فرق والدین کی سختی یا نرمی کا نہیں تھا۔ فرق یہ تھا کہ ہمارے لیے باہر کوئی جگہ موجود تھی۔ آج وہ جگہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
مٹی کا لمس
ہمارے زمانے کے مقبول کھیل پٹھو گرم کھیلنے والے یاد کریں۔ مٹی کی ٹھیکریوں کا منا سا ٹاور بنایا جاتا، پھر گیند مار کر اسے گرا دیا جاتا اور بھاگ دوڑ شروع۔ گیند لگتی تو لگتی رہے۔ گھٹنے چھلتے تو چھلتے رہیں۔ گھر پہنچ کر ماں سے ڈانٹ پڑتی، زخم پر سرخ دوائی لگتی اور اگلے دن پھر وہی۔
بنٹے، کنچے، بلور تھے، گلی ڈنڈا تھا، کوکلا چھپاکی تھی، لکن میٹی تھی، برف پانی تھا۔ ان میں سے کسی کھیل کے لیے پیسے درکار نہیں تھے۔ کوچ درکار نہیں تھا۔ رجسٹریشن، فیس، یونیفارم، کچھ بھی نہیں۔ صرف تین چار لڑکے اور ایک کھلا میدان بلکہ کسی خالی پلاٹ سے بھی کام چل جاتا۔
اس سب میں جو چیز بچے کو ملتی تھی، وہ صرف ورزش نہیں تھی۔ گرنا، اٹھنا، ہارنا، جھگڑنا، صلح کرنا، ٹیم بنانا، اپنی باری کا انتظار کرنا، دھوکہ کھانا اور چالاکی کرنے والے سے نمٹنا، یہ سب سیکھا جاتا تھا۔ بغیر کسی بڑے کی نگرانی کے۔ یہی اصل تربیت تھی اور یہی چیز اب ختم ہو گئی ہے۔
آج کا بچہ کھیلتا بھی ہے تو سکرین پر۔ اس کھیل میں ہار جیت تو ہے، مگر پسینہ نہیں، مٹی نہیں، فطرت سے قربت نہیں۔ سب سے بڑھ کر سامنے بیٹھا وہ دوست نہیں جس کی آنکھوں میں دیکھ کر جھگڑنا اور پھر صلح کرنا پڑے۔ ہمارا بچہ درحقیقت زندگی کے لمس سے محروم ہو گیا ہے۔

کچھ سہولتیں معاشرہ دیتا ہے
سہولتوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو آدمی خود خرید کر اپنے بچے کو دے سکتا ہے۔ موبائل، ٹیبلٹ، سائیکل، کھلونا، اچھا سکول، اچھی خوراک۔ باپ محنت کرے گا اور یہ سب دے دے گا۔ دوسری قسم وہ ہے جو کوئی باپ اپنے بچے کو خرید کر نہیں دے سکتا، چاہے وہ کروڑ پتی ہو۔ گلی، محلہ، میدان، پارک، پندرہ ہم عمر بچوں کی ٹولی، شام کا میچ، اور وہ اجتماعی اطمینان کہ لڑکا باہر کھیل رہا ہے تو ٹھیک ہی ہو گا۔
یہ دوسری قسم معاشرہ فراہم کرتا تھا۔ اور معاشرے نے یہ فراہمی بند کر دی ہے۔
لاہور جیسے شہر کو دیکھ لیں۔ اس شہر میں بچوں کے لیے کھلے میدان کہاں ہیں؟ جو تھوڑے بہت گراؤنڈ تھے، ان پر پلازے کھڑے ہو گئے یا وہ کسی کلب کے حوالے کر دیے گئے جہاں فیس دیے بغیر داخلہ نہیں۔ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا نقشہ ہی ایسا بنایا جاتا ہے کہ اس میں گراؤنڈز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی۔ گلیوں میں گاڑیاں اور جہاں تھوڑی سی جگہ بچے کھیل سکتے ہوں، وہاں بورڈ لگا ہوتا ہے یہاں کھیلنا منع ہے۔
سکولوں اور کالجوں کا حال اس سے بھی برا ہے۔ کبھی ہر سکول کی اپنی فٹ بال ٹیم ہوتی تھی، ہاکی ٹیم ہوتی تھی، انٹر سکول مقابلے ہوتے تھے۔ آج آپ ڈھونڈتے رہ جائیں۔ سکول کے پاس گراؤنڈ ہی نہیں کہ ٹیم کہاں سے بنے؟ جہاں گراؤنڈ ہے وہاں پی ٹی کا پیریڈ ریاضی کے استاد کو دے دیا گیا ہے کہ کورس پورا کرنا ہے۔
وقت زیادہ تھا، وقت کاٹنے کی چیزیں کم
ہمارے پاس وقت زیادہ تھا اور وقت کاٹنے کی چیزیں کم۔ اسی خالی وقت میں ہم کھیلتے تھے، گلیاں ناپتے تھے، کہانیاں اور ناول پڑھتے تھے، اور اپنے لیے مصروفیت خود ایجاد کرتے تھے۔
آج بچے کے سامنے لامحدود کارٹون ہیں، فلمیں ہیں، ڈرامے ہیں، اور سب سے بڑھ کر ویڈیو گیمز ہیں جو باقاعدہ ماہرین نفسیات کی مدد سے اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ بچہ ان سے چپک جائے۔ ان کے مقابلے میں ایک کتاب، جس کے کھلتے ہی سیاہ حروف کی قطاریں سامنے آ جائیں، بچے کو بور اور ڈل لگتی ہے۔
مسئلہ مگر کتاب سے بھی بڑا ہے۔ ہم نے بچے سے بوریت چھین لی ہے اور بوریت کوئی بری چیز نہیں تھی۔ بوریت دماغ کو خالی جگہ دیتی ہے اور اسی خالی جگہ میں تخیل پیدا ہوتا ہے۔ جو بچہ کبھی بور ہی نہیں ہوتا، وہ کبھی خود سے کچھ ایجاد بھی نہیں کرتا۔ ہم چھت پر لیٹ کر بادلوں میں شکلیں ڈھونڈا کرتے تھے۔ آج کے بچے کو اس کی فرصت ہی نہیں۔

مغرب سے ایک حوالہ
ہماری عادت ہے کہ ہم گوروں سے بڑے متاثر ہوجاتے ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر کچھ ریسرچ فرمائی تو معروف امریکی ماہر نفسیات جوناتھن ہائیٹ کا حوالہ مل گیا۔ ان بھائی صاحب نے ایک اہم کتاب لکھی ہے جس کا تھیسس ہے کہ کھیل پر مبنی بچپن کی جگہ فون پر مبنی بچپن نے لے لی ہے اور اسی کے ساتھ نوجوانوں میں بے چینی اور ڈپریشن کے واقعات بڑھے ہیں۔
ڈاکٹر ہائیٹ کی سب سے چبھتی ہوئی بات یہ ہے کہ ہم نے بچوں کو حقیقی دنیا میں ضرورت سے زیادہ محفوظ کر دیا اور آن لائن دنیا میں بالکل بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ گلی کے کونے تک اکیلے نہیں جانے دیتے، مگر وہی موبائل تھما دیتے ہیں جس کے ذریعے بچہ دنیا میں کہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔
ہمارے ماضی میں سب اچھا نہیں تھا
دیانت داری سے ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ہماری نسل کا بچپن جنت نہیں تھا۔ ہر مسئلے کا ایک ہی حل تھا اور وہ تھا لتر پریڈ۔ سکول میں ماسٹر صاحب کے ڈنڈے سے ہاتھ سوج جاتے تھے اور گھر آ کر شکایت کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہاں دوسری پٹائی کا امکان تھا۔ والد سے بات کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی تھی۔ بیماریاں زیادہ تھیں، علاج کم تھا، وغیرہ وغیرہ۔
آج کا باپ اپنے بیٹے سے دوست کی طرح بات کرتا ہے۔ آج کی ماں بچے کے مزاج، اس کی ذہنی کیفیت اور اس کے دباؤ کا خیال رکھتی ہے۔ یہ چھوٹی نہیں، بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ہم نے کچھ کھویا ہے تو کچھ پایا بھی ہے۔
پھر کیا کیا جائے
سب سے پہلی بات، بچے کو روز کچھ وقت ایسا دیجیے جس میں کوئی بڑا اسے نہ دیکھ رہا ہو، کوئی سرگرمی طے شدہ نہ ہو۔ آدھا گھنٹہ، ایک گھنٹہ، جتنا ممکن ہو۔ اسے سودا لینے بھیجیں۔ اسے محلے کے بچوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیں۔













