سعودی عرب میں پاکستانی زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق
سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کیا گیا۔( فوٹو: پی ایم او)
پاکستان اور سعودی عرب نے فوڈ سکیورٹی میں تعاون کو فروغ دینے اور پاکستانی زرعی و غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات تین ارب ڈالر تک پہنچانے پراتفاق کیا ہے۔
اس اتفاق رائے کا اعلان سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئرعبدالرحمن الفضلی کی سربراہی میں سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا۔
سعودی وفد نے 26 سے 28 اگست 2026 تک اسلام آباد کا دورہ کیا۔ وفد میں وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، جنرل فوڈ سکیورٹی اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔
پاکستان کی جانب سے وفد کی سربراہی وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کی جبکہ سیکرٹری تجارت جواد پال، سیکرٹری قومی غذائی تحفظ عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور نجی شعبے کے نمائندگان شامل تھے۔
دونوں ملکوں نے 1947 سے جاری پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔
مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں لائیو سٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں تعاون کے لیے کو آرڈینیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ سعودی عرب نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد بتدریج دگنا کرنے اور چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

بات چیت میں جن ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
چاول کے حوالے سے بتایا گیا 2025 میں سعودی عرب کو پاکستانی چاول کی برآمدت تقریباً 169,000 ٹن چاول تک پہنچ گئی، جن کی مالیت تقریباً 163 ملین امریکی ڈالر تھی۔
فریقین نے آئندہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔
سرخ گوشت کے شعبے میں سعودی عرب کو پاکستانی گوشت کی فراہمی تقریباً 30 ٹن تک پہنچ گئی، جس کی مالیت تقریباً 167 ملین امریکی ڈالر ہے۔ سعودی وفد نے مستقبل میں پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد کو بتدریج دگنا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

بات چیت میں پھلوں کے شعبے میں بھی امید افز مواقع کی نشاندہی کی گئی۔ سعودی عرب میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید بڑھانے، نجی شعبے کو با اختیار بنانے، کاروباری افراد کے درمیان رابطے کو آسان بنانے اور معیار کے سرٹیفکیٹس کی باہمی منظوری کے اقدامات کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی جس کا پاکستانی جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔
سعودی عرب نے سبز چارے کی تجارت کو وسعت دینے اور طویل المدتی سپلائی پارٹنرشپ کے قیام کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔

پنجاب کے علاقے بھکر میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے دوسرے مرحلے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
لائیو سٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔ دونوں ملکوں نے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کےلیے کوآرڈینیشن اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
سعودی وفد کے دورے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے لیے سٹریٹیجک پلان پر بریفنگ، پاکستان کی سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، فوجی فاؤنڈیشن اور پاکستان، سعودی عرب ایگریکلچرل بزنس کونسل کے ساتھ ملاقاتیں اور نیشنل ایگریکلچرل سینٹر کا دورہ شامل تھا۔

دونوں ملکوں نے جامع سٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان کی جانب سے سعودی ایگریکلچر نمائش جو 19 سے 22 اکتوبر 2026 کو ریاض میں ہوگی، میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے دورے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور طے پانی والی مفاہمت پر عملدرآمد کے لیے کے کوآرڈینیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
