’دی سنکن ٹریژرز‘: جدہ میں چھ ماہ تک بحیرۂ احمر کی بحری تاریخ اور زیرِ آب ورثے کی نمائش
یہ نمائش 25 فروری سے تاریخی عمارت باب البنط میں جاری تھی ( فوٹو: ایس پی اے)
جدہ تاریخیہ میں واقع ریڈ سی میوزیم میں چھ ماہ سے جاری ’دی سنکن ٹریژرز: دی میری ٹائم ہیریٹیج آف دی ریڈ سی‘ نمائش اختتام پذیر ہو گئی۔
نمائش نے صدیوں سے جاری بحری تجارت، جہاز رانی، سفرِ حج اور سعودی عرب کے ساحلوں کے قریب سمندر کی تہہ میں ہونے والی تاریخی دریافتوں کو اجاگر کیا۔
یہ نمائش 25 فروری سے تاریخی عمارت باب البنط میں جاری تھی۔ اس نے بحیرۂ احمر کے اس تاریخی کردار کو اجاگر کیا جو جزیرہ نمائے عرب کو بحیرۂ روم، افریقہ اور ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔
ایس پی اے کے مطابق زیرِ آب آثار قدیمہ کی دریافتوں، زیرِ آب ثقافتی اثاثوں کے تحفظ اور اس حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
نمائش میں 18ویں صدی میں املج جہاز کا ملبہ شامل تھا جو مرجان کی چٹانوں کے درمیان 20 سے 22 میٹر کی گہرائی میں دریافت ہوا تھا۔ جہاز سے ملنے والے سامان میں تجارتی کنٹینرز، مٹی کے برتن، سکے، سیرامکس، قدیم نیویگیشن کے آلات اور سمندری نقشے شامل ہیں۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور جدہ تاریخیہ پروگرام کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی یہ نمائش سمر سیزن کی ثقافتی پروگرام کا بھی حصہ تھی۔ جس کا مقصد ثقافتی سیاحت کو فروغ دینا اور مملکت کے زیرِ آب ورثے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
اس نمائش میں تاریخی نوادرات بھی رکھے گئے جن میں پتھر اور لکڑی کے پرانے لنگر اور دیگر اشیا شامل تھیں۔

یہ نوادرات سعودی بندرگاہوں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور مشرق سے مغرب تک تجارتی راستوں کو جوڑنے کے لیے اُن کے سٹریٹیجک کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔
یہ نمائش سعودی عرب کی موجودہ تحقیق، سائنسی ڈاکومنٹیشن اور مخصوص ٹریننگ پروگراموں کو بھی نمایاں کرتی ہے جو سمندر کی گہرائی میں چھپے ان خزانوں کے تحفظ کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔
