پونے کے لوہا گڑھ قلعے میں قتل:’وائرل پوسٹ اور شدید گرمی میں ہُڈی‘
پونے کے لوہا گڑھ قلعے میں قتل:’وائرل پوسٹ اور شدید گرمی میں ہُڈی‘
جمعہ 26 جون 2026 6:20
یوسف تہامی -دہلی
پولیس کو جلد ہی سیا گوئل کے بیانات میں تضادات محسوس ہونے لگے (فوٹو: ایکس)
انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے پونہ ضلع میں پیش آنے والے ایک خوفناک واقعے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ اس میں ایک خاتون نے اپنے محبوب کے ساتھ مل کر اپنے منگیتر کی اس چالاکی سے جان لے لی کہ یہ ایک حادثہ نظر آئے۔
لیکن پولیس کی تفتیش اور چند الجھے ہوئے بیانات نے ایک اس قتل کی سازش کی پرتیں کھول کر رکھ دیں اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’کیا اب شادی سے پہلے لڑکی اور لڑکے بارے میں جاننے کے لیے جاسوسوں کا استعمال ضروری ہو گیا ہے۔‘
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے 18 جون کو رونما ہونے والے واقعے میں 20 سالہ سیا اگروال اور ان کے بوائے فرینڈ چیتن چودھری کو گرفتار کیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے جرم کا ارتکاب کر لیا ہے۔
انڈیا میں پیش آنے والے بعض جرائم اپنی سفاکی اور غیر معمولی منصوبہ بندی کے باعث پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔
مہاراشٹر کے تاریخی لوہاگڑھ قلعے میں پیش آنے والا کیتن اگروال قتل کیس بھی انہی میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف عوام بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق جس نوجوان کی چند ماہ بعد شادی ہونے والی تھی، اسے اس کی اپنی منگیتر سیا گوئل نے مبینہ طور پر اپنے عاشق کے ساتھ مل کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
25 سالہ کیتن اگروال پونے کے ایک معروف ریئل اسٹیٹ کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی منگنی رواں سال فروری میں سیا گوئل سے ہوئی تھی اور نومبر میں شادی طے تھی۔ خاندان کے مطابق ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا تھا، لیکن بعد میں بعض معاملات پر اختلافات اور کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پولیس تحقیقات کے مطابق 2025 میں دیوالی کی ایک تقریب کے دوران سیا گوئل کی ملاقات چیتن چودھری نامی نوجوان سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان قربت بڑھتی گئی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ’کیتن ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے، جسے ہٹانے کا منصوبہ بنایا گیا۔‘
18 جون 2026 کو سیا گوئل نے اپنے منگیتر کو سالگرہ منانے اور ٹریکنگ کے بہانے پونے کے قریب واقع تاریخی لوہا گڑھ قلعے پر بلایا۔
ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ تصویر کھنچواتے وقت کیتن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ تقریباً تین سو سے چار سو فٹ گہری کھائی میں جا گرے۔ اس واقعے کو پہلے ایک افسوسناک حادثہ سمجھا گیا اور ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد لاش نکالی۔
تاہم پولیس کو جلد ہی سیا گوئل کے بیانات میں تضادات محسوس ہونے لگے۔ پونے کے ایس پی سندیپ سنگھ گل کے مطابق تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون کے ریکارڈز اور دیگر تکنیکی شواہد نے ایک مختلف کہانی بیان کی۔ پولیس کو اس بات پر بھی شک ہوا کہ کیتن ٹریکنگ کرتا تھا اور اس کا اس طرح سے گر کر ہلاک ہونا شبہ پیدا کرنے لگا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’چیتن چودھری بھی موقع کے قریب موجود تھا اور اس کی شناخت ایک ایسے شخص کے طور پر ہوئی جو شدید گرمی میں ہُڈی پہنے ہوئے تھا، جس نے تفتیش کاروں کے شکوک کو مزید بڑھا دیا۔‘
سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا کہ ’یہ قتل اچانک نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔‘
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’سیا اور چیتن اس سے قبل بھی کم از کم تین مرتبہ کیتن کو قتل کرنے کی کوشش کر چکے تھے، لیکن ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے منصوبہ ناکام ہو گیا۔‘ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق چار دن قبل بھی کیتن کو مارنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی۔
جبکہ ’دی ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر سیا نے مبینہ طور پر سانپ کا بہانہ بنا کر کیتن کو دھکا دیا، مگر وہ بچ نکلے۔ بعد کی دو کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ آخرکار 18 جون کو ان کا منصوبہ کامیاب ہو گیا۔
کیتن کے والد وشال اگروال نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدا میں خاندان نے اس واقعے کو حادثہ سمجھا، لیکن بعد میں کئی باتوں نے انہیں شکوک و شبہات میں ڈال دیا۔ ان کے مطابق جب پولیس لاش لے کر پہنچی تو سیا کا رویہ غیر معمولی طور پر سرد تھا، جس نے خاندان کے خدشات کو بڑھا دیا۔
اس کیس کا ایک اور پہلو سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا۔ واقعے کے فوراً بعد سیا گوئل نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی تھی جس میں لکھا تھا کہ ’تم میری سالگرہ پر مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔‘ بعد میں جب قتل کی سازش کا انکشاف ہوا تو یہی پوسٹ وائرل ہو گئی اور صارفین نے اسے ’ڈرامائی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیا۔
سیا گوئل اور چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں (فوٹو: ایکس)
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل انتہائی شدید رہا۔ متعدد صارفین نے اسے ’اعتماد کے قتل‘ اور ’محبت کے نام پر سفاک دھوکہ‘ قرار دیا۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ’کیتن کو سچ معلوم ہوتا تو وہ خود یہ رشتہ ختم کر دیتے‘ جبکہ دوسروں نے اس کیس کو حالیہ برسوں کے سب سے ہولناک جرائم میں شمار کیا۔
فی الحال سیا گوئل اور چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اعتماد، محبت اور رشتوں کے پردے میں چھپے جرائم کس قدر خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق کیتن کی والدہ نے کہا کہ ’میرا بیٹا نہیں رہا، سیا اور اس کے بوائے فرینڈ اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس نے (سیا) نے مجھے دھوکہ دیا اور جھوٹ بولا، ہمیں کوئی شک نہیں تھا، میں اس سے کئی بار ملی، اور ہم اکثر ایک ساتھ شاپنگ کرنے اور رات کے کھانے کے لیے باہر گئے، پھر بھی یہ بات ہمارے ذہن میں نہیں آئی کہ وہ اس قسم کی موت کی مرتکب ہو سکتی ہے۔‘
کیتن کے والدین نے بیٹے کے قاتلوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔