پیکیجنگ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات، بیوٹی انڈسٹری بھی ایران جنگ کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی
ایران کی جنگ اب بیوٹی مصنوعات کی سپلائی چین پر بھی اثرانداز ہونا شروع ہو گئی ہے، کیوں کہ پلاسٹک کے ڈبوں اور لپ سٹک کی ٹیوبز سے لے کر نقل و حمل تک ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور بیوٹی انڈسٹری کو یہ باور کروا رہی ہے کہ ایک فیس کریم کی ٹیوب پر بھی عالمی تجارتی راستوں میں درپیش رکاوٹیں اثرانداز ہوتی ہیں۔
گذشتہ ہفتے شمالی اٹلی کے شہر بولونا میں کاسمیٹکس انڈسٹری کی ایک بڑی تجارتی نمائش میں اس وقت بیوٹی مصنوعات کی قیمتوں میں دباؤ کا موضوع بار بار زیرِبحث آیا، جب مختلف کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز نے یہ دیکھا کہ ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہُرمز کی بندش کو پانچ ہفتے مکمل ہونے والے ہیں۔
کاسموپروف میلے میں 68 ممالک سے 3100 نمائش کنندگان اور 150 ممالک سے 2 لاکھ 55 ہزار شرکا آئے، جن میں پیکیجنگ کمپنیوں سے لے کر نئی مصنوعات کے ریٹیلرز تک شامل تھے۔
انڈسٹری کے پانچ ایگزیکٹیوز نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاسمیٹکس کمپنیاں بنیادی طور پر خام مال اور نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے فکرمند ہیں جس کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور نقل و حمل میں درپیش رکاوٹیں ہیں۔
اطالوی کاسمیٹکس گروپ کیکو کے سی ای او سیمون ڈومینیکی نے کہا کہ ’ہم یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔‘
ڈومینیکی کے مطابق،گروپ کے لیے لاجسٹکس کے اضافی اخراجات قریباً 1.5 ملین یورو (1.7 ملین ڈالر) ہو گئے ہیں۔
کیکو کی لپ سٹکس کی قیمت 5 یورو سے اور مسکارا کی قیمت 7.5 یورو سے شروع ہوتی ہے اور یہ دنیا بھر میں 1000 سے زیادہ سٹورز چلاتا ہے۔
ڈومینیکی نے کہا کہ ’بہت سے کنٹینرز مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث کنٹینرز کی دستیابی کم ہو گئی ہے اور سامان کی مؤثر طریقے سے نقل و حمل ممکن نہیں ہو پا رہی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ کیمیکلز اور پیکیجنگ کے سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صنعت پر مزید دباؤ ڈالیں گی، جن میں سے زیادہ تر مشرقِ بعید سے آتا ہے۔
ایران کا بحران جب سپلائی چین پر بدترین طور پر اثرانداز ہو رہا ہے، تو یونو، جو لوریل اور کے-بیوٹی کمپنیوں کے لیے کنٹینر بناتا ہے، نے کہا ہے کہ ’وہ سکن کیئر اور کاسمیٹکس کے ڈبوں کے لیے پلاسٹک ریزن کے سٹاک کو محفوظ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔‘
ڈومینیکی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ صارفین کی قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے بھی صنعت کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور یہ حالات حقیقت میں پریشان کن ہیں۔‘
میلان میں لسٹڈ انٹرکوس اور نجی ملکیت رکھنے والی اینکوروتی، جو اٹلی کی سب سے بڑی کانٹریکٹ مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے کہا ہے کہ انہیں فی الحال سپلائی کے حوالے سے نمایاں کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔
تاہم کمپنی نے لاجسٹکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات، نقل و حمل پر لگنے والے طویل وقت اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو چیلنج کے طور پر بیان کیا۔
اینکوروتی کے چیف ایگزیکٹیو روبیرٹو بوٹینو نے کہا کہ ’مینوفیکچرنگ کا وقت بڑھ گیا ہے کیونکہ طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں اور بندرگاہوں پر ہجوم غیرمعمولی طور پر زیادہ ہے۔ مینوفیکچرنگ پر کبھی آٹھ ہفتے لگتے تھے، لیکن اب 12 سے 14 ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔‘
بوٹینو نے کہا کہ ’کچھ صارفین ایشیا تک رسائی کے لیے ریلوے ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔‘
اینکوروتی گروپ کی سالانہ آمدنی قریباً 220 ملین یورو ہے، جو دنیا بھر میں بیوٹی برانڈز کو مصنوعات بیچنے سے حاصل ہوتی ہے۔
بوٹینو نے کہا کہ ’سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ صارفین کو منتقل کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔‘
ہیئر کیئر پروڈکٹس بنانے والی کمپنی فریمسی کے چیئرمین فابیو فرانچینا نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ کے گاہک معیار کو اہمیت دیتے ہیں اور اضافی قیمت ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، لہٰذا ان منڈیوں تک رسائی کے نہ ہونے کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔‘
فرانچینا نے کہا کہ ’کمپنی کے علاقے میں ڈسٹری بیوٹر متبادل راستے اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ (ان امکانات کو) دیکھ رہے ہیں کہ پہلے جدہ تک جہاز کے ذریعے سامان بھیجیں اور پھر یہ سامان عرب خلیج سے گزارنے کی بجائے سڑک کے ذریعے آگے منتقل کریں۔‘
فرانچینا کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ سامان اس وقت ہوائی جہازوں کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے، جو لاگت کو مزید بڑھا رہا ہے۔‘
صنعتی ادارے کاسمیٹیکا اٹالیا کے مطابق اٹلی نے 2025 میں 18 ارب یورو کی کاسمیٹکس تیار کیں، جن میں سے 8 ارب 40 کروڑ یورو کی کاسمیٹیکس برآمد کی گئیں، جس سے ملک دنیا کا پانچواں سب سے بڑا بیوٹی مصنوعات برآمد کرنے والا اور ہیئر کلرز، آئی میک اَپ اور خوشبوؤں کے معروف پیدا کنندگان میں سے ایک بن گیا۔
