ایران اور حزب اللہ کے ماہرین فوجی کارروائیوں میں حوثیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں: یمنی وزارتِ داخلہ
ایران اور حزب اللہ کے ماہرین فوجی کارروائیوں میں حوثیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں: یمنی وزارتِ داخلہ
منگل 3 نومبر 2026 22:01
ابراہیم حیدان نے ایران اور حزب اللہ پر حوثی ملیشیا کی رہنمائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
یمن کے وزیرِ داخلہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ کے 21 ماہرین حوثی باغیوں کی فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں اُن کی مدد کر رہے ہیں۔ اُن کا الزام ہے کہ اِن ماہرین کا کردار اب صرف تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور کمانڈ کے معاملات بھی سنبھال رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق وزیرِ داخلہ ابراہیم حیدان نے ایک بیان میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے 14 اور حزب اللہ کے سات ماہرین حوثی ملیشیا کے ساتھ مل کر بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز، سمندری حملوں اور الیکٹرانک جنگ کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
ابراہیم حیدان کے مطابق اِن ماہرین کی ذمہ داریوں میں تجارتی جہازوں کو حملوں کے لیے ہدف کے طور پر منتخب کرنا، دھماکہ خیز مواد سے لیس کشتیوں اور خودکار آبدوزوں کی تیاری اور فوجی سازوسامان کے پرزوں کی سمگلنگ کرنے والے نیٹ ورکس کی نگرانی شامل ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ ماہرین حوثی جنگجوؤں کو بارودی سرنگیں بچھانے، محاصرے کی حکمتِ عملی اپنانے اور شہری علاقوں میں لڑائی کرنے کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔
ابراہیم حیدان نے کہا کہ ’یہ محض تربیتی مشن نہیں بلکہ ایک مکمل فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام ہے۔‘
اُن کے مطابق اِس گروپ کی قیادت پاسدارانِ انقلاب کا ایک افسر کر رہا ہے، جو ’ایک ایسی ریاست کے سفیر کے طور پر کیمرے کے سامنے آیا تھا جو بین الاقوامی قانون کے احترام کا دعویٰ کرتی ہے۔‘ ابراہیم حیدان نے اِس افسر یا اِس کے ملک کا نام ظاہر نہیں کیا۔
بیان کے مطابق اِس گروپ کے دیگر ارکان میں ایک کارروائیوں کا نگران، ایک سٹریٹجک امور کا مشیر، مشترکہ آپریشنز روم کا سربراہ اور میزائلوں، ڈرونز، ریڈار اور مواصلات کے شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ اِن میں سے آٹھ ماہرین حدیدہ، چار صنعا، چار صعدہ، دو حجہ، دو عمران اور ایک الخوخہ میں تعینات ہیں۔
ابراہیم حیدان نے الزام عائد کیا کہ ’اِن ماہرین کی سرگرمیاں صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی، تنظیمی اور ذرائع ابلاغ سے متعلق سرگرمیوں میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں، جن کا مقصد یمن میں ایرانی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا اور طویل المدتی وفاداری پر مبنی نیٹ ورکس قائم کرنا ہے۔‘
اُنہوں نے کہا کہ ’اِن ماہرین کی موجودگی بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہاز رانی اور سمندری عملے کے لیے خطرہ ہے، جبکہ تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہیں۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’اسلحے کی ٹیکنالوجی اور مہارتیں اس نظریے سے وابستہ دیگر مسلح گروہوں تک بھی پھیل سکتی ہیں۔‘
ابراہم حیدان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے، اُن کی مالی معاونت اور اسلحے کی فراہمی کے نیٹ ورکس کو ختم کرے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 2216 اور 2624 کے تحت عائد اسلحے کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
یمنی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اِن ماہرین کی یمن میں موجودگی بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے (فائل فوٹو: عرب نیوز)
وزیرِ داخلہ نے اِن ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’حوثیوں کی تعز کے محاصرے‘ میں معاونت کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یمنی عوام ’غیر ملکی مداخلت کی قیمت اپنی جانوں کے ضیاع، عدم تحفظ اور وسائل کی کمی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔‘
اُنہوں نے کہا کہ ‘فیصلے تہران میں لکھے جاتے ہیں، اِن کا اعلان صنعا میں ہوتا ہے اور اِن کی قیمت تعز، حدیدہ اور تنازعات سے متاثرہ دیگر صوبوں کے عوام ادا کرتے ہیں۔‘
ابراہیم حیدان نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے رہائشیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران کی حمایت یافتہ یہ تنظیم فلسطینیوں کی حمایت کے نام پر انہیں جنگ میں دھکیل رہی ہے، جبکہ اس جنگ کی سمت کا تعین ایران کے ہاتھ میں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ یمن کے ریاستی اداروں کی بحالی اور صنعا کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ’آپریشن فجرالیمن‘ کے تحت قومی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔