نجران کا قدیم ’امارات پیلس‘ مملکت کی ترقی کے طویل سفر کا گواہ
امارات پیلس سال ہجری 1363 میں تعمیر کیا گیا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی نیشنل ڈے ان تاریخی قومی مقامات کی یاد تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو مملکت کی طویل ترقی کے سفر کے گواہ ہیں۔ ان میں نجران کا قدیم ’امارات پیلس‘ بھی ہے جو ایک قومی یادگار اور خطے کی نمایاں تعمیراتی علامت ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ تاریخی قصر سال ہجری 1363(1944) میں تعمیر کیا گیا تھا جو قدیم شہر’اباالسعود‘ کے عین قلب میں واقع ہے۔
پیلس کا مجموعی رقبہ چھ ہزار 252 مربع میٹر ہے۔ یہ تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں متعدد کمرے اور مختلف سہولیات شامل ہیں۔ ایک قدیم کنواں، چاروں کونوں پرگول مینار اور نگرانی کے لیے بنائے گئے واچ ٹاورز بھی موجود ہیں۔
ماضی میں امارات پیلس انتظامی دفاتر و دیگر سرکاری محکمے کے زیرِ استعمال تھا۔
یہ وہ دور تھا جب نجران میں سعودی ریاست کے قیام کے سفر کے دوران انتظامی اور ترقیاتی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔
تاریخی امارات پیلس کے ڈیزائن میں نجران کے قدیم اور روایتی طرزِ تعمیر کو مقدم رکھا گیا۔ مٹی اور پتھروں سے بنائی گئی دیواریں اور کھجور کے تنے بطور ستون کام کرتے تھے جس کے باعث یہ خطے کے قدیم تعمیراتی ورثے کی نمایاں خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے اور اپنی تاریخی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

قدیم شہری آبادی کے عین وسط میں، روایتی بازاروں اور تاریخی عمارتوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس قصر کو ثقافتی اور سیاحتی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔
