Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثی کشیدگی کو ختم کریں اور امن کی طرف آئیں: فرانسیسی نمائندہ برائے اقوام متحدہ

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے (فوٹو: روئٹرز)
اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافونٹ نے حوثیوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو روکتے ہوئے امن مذاکرات کی طرف آئیں جبکہ ان کی جانب سے سعودی عرب اور باب المندب کے خلاف اقدامات کو بھی ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
نیویارک اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’فوجی راستہ کوئی آپشن نہیں جبکہ ہتھیاروں کے ذریعے ایک جائز حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا بھی ایسا آپشن نہیں جسے قبول کیا جا سکے۔‘
ان کے مطابق ’ہم حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کو ختم کریں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے ساتھ امن مذاکرات اور قومی مفاہمت کے عمل میں سنجیدگی سے شامل ہوں۔‘
جیروم بونافونٹ نے خلیج میں جاری کشیدگی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ سفارت کاری جاری رہنی چاہیے۔
لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فرانس وہاں اقوام متحدہ کی عبوری کے مینیڈیٹ کی 31 دسمبر کو مدت ختم ہونے  کے بعد اس کے متبادل انتظام کی تشکیل میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کو خطے میں فرانس کا ’اہم شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازع، لبنان اور آبنائے ہرمز سمیت مختلف معاملات میں سعودی عرب اہم پارٹنر ہے۔
جیروم بونافونٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں بین الاقوامی برداری کی موجودگی اب بھی ضروری ہے تاکہ ریاستی اداروں کی عمل داری کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ان کے مطابق ’لبنان کی اپنے پورے علاقے پر خودمختاری دو چیزوں سے مشروط ہے، پہلا یہ کہ کوئی مسلح گروہ قانونی اداروں کی رٹ کو چیلنج نہ کر سکے اور دوسرا کوئی بیرونی ملک لبنان پر حملہ یا قبضہ نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور قومی سطح پر بھی انتہائی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کے بقول ’وہاں بین الاقوامی برادری کی موجودگی اور اقوام متحدہ کا کردار ضروری ہے تاکہ یہ امر یقینی رہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 بدستور قائم ہے اور عالمی برادری لبنان کے اندر امن اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرسکون تعلقات کی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے۔‘
سلامتی کونسل نے قرارداد 1701 سنہ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم کروانے کے لیے منظور کی تھی، اس میں جنوبی لبنان پر مکمل خودمختاری، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور سرحد تک لبنانی فوج کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی عبوری فورس کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
فرانس اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ فورس کے انخلا کے بعد بھی اس بنیادی نظام کو قائم رہنا چاہیے۔
جیروم بونافونٹ نے اردن کی قیادت میں جاری عمل عقبہ انیشٹیو کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔
17 ستمبر کو پیرس میں فرانسیسی اور لبنانی صدور نے اجلاس منعقد کیا تھا جس میں اردن کے شاہ بھی شریک ہوئے تھے، اس میں 17 ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے جبکہ لبنان، اردن، برطانیہ اور فرانس کے فوجی سربراہان نے بھی شرکت کی تھی۔

شیئر: